فیس بک خودکشی کا سوچنے والے صارفین کی نشاندہی کرے گا

فیس بک تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فیس بک پر اس بات کے لیے نکتہ چینی ہوتی رہی ہے کہ اس پر مواد کی نگرانی نہیں ہوتی

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے ان افراد کی شناخت کرنا شروع کر دی ہے جن کے بارے میں خطرہ ہو کہ وہ خود کشی کر سکتے ہیں۔

فیس بک نے ایسا ایلگوردم بنایا ہے جو صارفین کی پوسٹس اور ان پر دوستوں کی جانب سے کیے جانے والے تبصروں کی روشنی میں ان صارفین کی نشاندہی کرے گا جن کے بارے میں خطرہ ہو کہ وہ خودکشی کر سکتے ہیں۔

فیس بک کی ٹیم کی جانب سے تصدیق کے بعد کمپنی ان لوگوں سے رابطہ کرے گی جن کے بارے میں یہ خیال ہو کہ وہ خود کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور انھیں بتایا جائے گا کہ وہ کیسے مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

خودکشی کے حوالے سے قائم ہیلپ لائن کے سربراہ نے اس اقدام کے بارے میں کہا ہے کہ ’یہ نہ صرف مددگار ہے بلکہ اہم بھی ہے۔‘

اس وقت اس طریقہ کار کا صرف امریکہ میں ہی تجزیہ کیا گیا ہے۔

فیس بک پراڈکٹ مینیجر ونیسا کیلیسن برک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ رفتار اہمیت رکھتی ہے جب چیزیں ضروری ہوں۔‘

خودکشیوں کو روکنے والے امریکی ادارے کے ڈائریکٹر نے ان کوششوں کی تعریف تو کی لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ فیس بک صرف مشورے دینے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں سے رابطہ کرنے کے لیے بھی کوشش کرے جو مدد کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption زبکر برگ کے مطابق یلگوردمز جیسے ضروری سافٹ ویئر کو مکمل طور پر تیار کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں

خیال رہے کہ اس سے قبل فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے اعلان کیا تھا کہ ایک ایسا نیا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت مصنوعی ذہانت والے سافٹ ویئر کی مدد سے سائٹ پر پوسٹ کیے جانے والے شدت پسندانہ مواد کی نگرانی کی جا سکے گی۔

انھوں نے اپنے ایک خط میں اس منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ بالآخر مصنوعی ذہانت والے سافٹ ویئر ایلگوردمز دہشت گردی، تشدد، غنڈہ گردی جیسے مواد کی نشاندہی کر سکیں گے اور اس سے خودکشیاں روکنے میں بھی مدد ملے گی۔

تاہم انھوں نے کہا تھا کہ اس قسم کے سافٹ ویئر کو مکمل طور پر تیار کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

اس سے متعلق انھوں نے تقریبا 5500 الفاظ پر مشتمل ایک خط میں تفصیلات کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فیس بک پر ہر روز اربوں کی تعداد میں مختلف طرح کے پیغامات اورتبصرے پوسٹ ہوتے ہیں اور ان کا جائزہ لینا تقریباً ناممکن ہے۔

اسی بارے میں