آخر ہاتھی اتنا کم کیوں سوتے ہیں؟

ہاتھی تصویر کے کاپی رائٹ WITS UNIVERSITY

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ افریقہ کے جنگلات میں پائے جانے والے ہاتھی ممالیوں میں سب سے کم وقت کے لیے سوتے ہیں۔

سائنسدانوں نے بوٹسوانا میں دو ہاتھیوں کا جائز لیا تاکہ جانوروں میں سونے کے فطری انداز کو سمجھ سکیں۔

چڑیا گھروں میں موجود ہاتھی دن میں چار سے چھ گھنٹوں تک سوتے ہیں لیکن قدرتی ماحول میں رہنے والی ہاتھی صرف دو گھنٹے نیند کرتے ہیں اور وہ بھی زیادہ تر رات میں۔

ہاتھیوں کے گروہ میں سب سے بڑی ہتھنی یا ان سب میں بڑا ہاتھی بعض اوقات کئی دنوں تک جاگتے رہتے ہیں۔

ان دنوں کے دوران وہ شاید شیروں یا شکاریوں سے بچنے کے لیے طویل فاصلے طے کرتے ہیں۔

ہاتھی ریپڈ آئی موومنٹ یا گہری نیند میں ہر تین یا چار دنوں میں جاتے ہیں جب وہ لیٹ کر سوتے ہیں نہ کہ اپنے پیروں پر کھڑے کھڑے۔

جنوبی افریقہ میں یونیورسٹی آف دی ویٹواٹرزرینڈ کے پروفیسر پال مینگر کا کہنا ہے کہ اس سے ہاتھیوں میں نیند نایاب ہو جاتی ہے۔

پروفیسر پال مینگر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ممالیوں میں سب سے کم سونے والے ہاتھی ہی ہیں، جس کا تعلق ان کے بڑے جسم کے ساتھ معلوم ہوتا ہے۔‘

ہاتھیوں کو قید میں رکھنے کے بارے میں بڑے پیمانے پر تحقیق کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WITS UNIVERSITY

جنگلات میں ہاتھیوں میں سونے کی مزید عادات کے بارے میں جاننے کے لیے پال مینگر اور ان کی ٹیم نے ان جانوروں کی سونڈ میں جلد کے نیچے بعض آلات نصب کر دیے۔

ان آلات کی مدد سے یہ معلوم کیا جاتا تھا کہ ہاتھی کب کب سوتے تھے، اور یہ معلومات ان کی سونڈ کے پانچ یا اس سے زیادہ منٹ تک حرکت نہ کرنے سے حاصل ہوتی تھی۔

ان دونوں ہاتھیوں میں ان کے سونے کے انداز کو جاننے کے لیے جائرو سکوپ نامی آلا بھی نصب کیا گیا تھا۔

ان ہاتھیوں کا پانچ ہفتوں تک جائزہ لیا گیا جس سے ان کے سونے کے طریقہ کار کے بارے میں نئی معلومات ملی ہیں۔

عام طور پر بڑے اجسام والے ممالیے چھوٹے اجسام والوں کے مقابلے میں زیادہ سوتے ہیں۔

مثال کے طور پر سلاتھ نامی جانور تقریباً 14 گھنٹے سوتے ہیں جبکہ انسان تقریباً آٹھ گھنٹے تک سوتے ہیں۔

تاہم تاحال یہ ایک راز ہی ہے کہ ہاتھی اتنا کم وقت سونے کے بعد بھی کیسے زندہ رہتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں