ناروے میں لندن کی مشہور کالی ٹیکسی کی خفیہ آزمائش

Image caption سنہ 2013 میں لندن کی ٹرانسپورٹ کے بارے میں ملنے والے اعداد و شمار سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ کالی ٹیکسیاں لندن کی ٹریفک سے خارج ہونے والی 15 فیصد زہریلی گیسوں جنھیں نائٹروجن آکسائیڈ کہا جاتا ہے کا سبب تھیں

آرکٹیک سرکل میں لندن کی کالی ٹیکسی میں سفر کرنا ذرا عجیب تھا۔

باہر درجہ حرارت منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ تھا اور یہ تیز چلتی ہواؤں اور اُڑتی ہوئی برف کے اثر کے بغیر تھا۔

لیکن یہ وہی مقام ہے جہاں اس نئے ڈیزائن کی گاڑی کی خفیہ طریقے سے آزمائش کی گئی۔

٭2025 سے ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر پابندی

جس گاڑی کو ہم چلا رہے تھے وہ سیاہ اور سفید تھی۔ اس کا دکھائی دینا اس قدر آسان نہیں تھا اس لیے مقابل اس کی اصل تصویر نہیں لے سکتے تھے۔

کیموفلاج کرنے سے اس گاڑی کی شناخت کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا لیکن جب وہ گلیوں میں جائے گی تو یہ عام، روایتی رنگ اور شکل کی ہو گی۔

سب سے اہم فرق یہ کہ اس کی آواز کیسی تھی؟ تقریباً خاموش۔

کیونکہ نئی ٹیکسی میں الیکٹرک انجن لگا ہوتا ہے اور اس سے فضا میں گیسوں کا اخراج تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

اگرچہ اس میں ایک چھوٹی پیٹرول کی موٹر ہوتی ہے جو اس کی رینج کو بڑھانے کے لیے بیٹری کو وقتاً فوقتاً چارج کر سکتی ہے۔

ناروے کے ایک سرے پر جا کر اس گاڑی کی آزمائشی جانچ دو وجوہات کی بنا پر کی جا رہی تھی۔

نمبر ایک یہ کہ گاڑی بنانے والے تمام نئی گاڑیوں کی پرفارمنس کو دیکھنے کے لیے انھیں شدید درجہ حرارت میں چلاتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ اس گاڑی کو ماسکو سمیت دنیا کے آلودگی سے شدید متاثرہ شہروں میں فروخت کیا جائے جہاں موسم ذرا سرد ہوتا ہے۔

اس وقت تمام کالی ٹیکسیوں میں ڈیزل انجن ہے اور ڈیزل فضائی آلودگی کے خلاف جنگ میں ایک مسئلہ ہے۔

سنہ 2013 میں لندن کی ٹرانسپورٹ کے بارے میں ملنے والے اعداد و شمار میں یہ اندازہ لگایا گیا کہ کالی ٹیکسیاں لندن کی ٹریفک سے خارج ہونے والی 15 فیصد زہریلی گیسوں جنھیں نائٹروجن آکسائیڈ کہا جاتا ہے کا سبب تھیں۔

یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس سے 26 فیصد خطرناک بڑے ذرات بھی بنتے ہیں جنھیں پی ایم ٹین ایس کہا جاتا ہے اور 31 فیصد چھوٹے ذرات بنتے ہیں جنھیں پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو ایس کہا جاتا ہے۔

لندن کے میئر صادق خان کا کہنا ہے کہ ان کی پہلی ترجیح لندن کی فضا کی صفائی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سنہ 2018 تک نئے لائسینس کی حامل ہر ٹیکسی کو لازمی طور پر اس قابل بنا دیا جائے گا کہ اس سے فضائی آلودگی کا سبب بننے والی گیسیں خارج نہ ہوں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ اس قابل ہو جائیں کہ آپ کی گاڑی 30 میل فی گھنٹہ کی رفتار تک چلنے کے دوران فضا میں آلودگی نہ پھیلائے۔

سبسڈیز ملنے کے باوجود نئی ٹیکسی کی قیمت 40 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کی بنتی ہے۔

میں جب یونہی راستے میں رکا تو میں نے دیکھا کہ آٹھ ڈرائیور وہاں موجود سواری کے انتظار میں کھڑے تھے ان سب نے بلیک ٹیکسی کے حوالے تقریباً ایک ہی جیسی بات کی۔

’اچھا خیال ہے، لیکن چھوٹی ٹیکسیوں کے کاروبار کو نقصان ہورہا ہے اور یہ ہماری استطاعت میں نہیں۔‘

کچھ کا یہ بھی خیال تھا کہ نوجوان ڈرائیورز تو شاید اس ٹیکسی پر پیسہ لگانے کے لیے تیار ہوں لیکن جو طویل عرصے سے اس شعبے میں کام کر رہے ہیں وہ شاید یہ نہ سوچ سکیں کہ اس سے انھیں اپنا پیسہ واپس مل جائے گا۔

ایل ٹی ڈی اے نامی ٹیکسی ایسوسی ایشن کے لائسینس یافتہ ڈرائیور سٹیو مکنامرا بھی ناروے میں اس نئی کالی ٹیکسی کو دیکھنے کے لیے موجود تھے۔

وہ اس ٹیکسی کو بہت اہم قرار دے رہے ہیں۔

شاید یہ برطانیہ میں ایک آئیکون ہو تاہم نئی ٹیکسی کی آمد کو بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کیا جاتا ہے۔ اس لیے کنوینٹری میں ایک بالکل نئی فیکٹری بنائی جائے گی جو تین سو برطانوی پاؤنڈ سے بنی ہے۔ اس کے لیے تمام فنڈنگ چینی پیسے سے اس وقت ہوئی جب گاڑیاں بنانے والی ایک بڑی کمپنی گیلے سنہ 2013 میں لندن کی ٹیکسی کمپنی کو بچانے کے لیے آگے بڑھی۔ ناروے میں موجود ٹیم کا تعلق اصل میں سویڈن سے ہے وہاں جرمن انجینر ڈاکٹر ولفارم لائڈٹیک کوالٹی کنٹرول کے شعبے کی سربراہی کر رہے ہیں۔

کیب کی پچھلی نشست پر بیلاے انھوں نہ مجھے بتایا گیلے برطانیہ کی مارکیٹ سے کہیں زیادہ کیبز بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

انھوں نے بتایا ’ہیرس ، مڈریڈ ، برلن اور چین نے ہمیں اس معالے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔‘

ایسا لگیا ہے کہ فضائی آلودگی ایک عالمی مسئلہ ہے۔

اسی بارے میں