اسلام آباد ہائی کورٹ کا سوشل میڈیا پر موجود توہین آمیز مواد فوراً بند کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس مقدمے کی سماعت اب روزانہ کی بنیاد پر ہو گی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستانی حکام کو سوشل میڈیا پر موجود تمام مذہب مخالف اور توہین آمیز مواد فوراً بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ حکم ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز مواد کی سوشل میڈیا پر موجودگی کے بارے میں درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔

’الزامات کا مقصد عوام کی ہمدردانہ رائے کو متاثر کرنا‘

انھوں نے ایسا مواد شائع کرنے والے افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں بھی شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس صدیقی نے اس سلسلے میں بدھ کو وزیرِ داخلہ کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا تاہم جب سماعت شروع ہوئی تو عدالت کو مطلع کیا گیا کہ ناسازی طبع کی وجہ سے چوہدری نثار پیش نہیں ہو سکتے۔

تاہم سیکریٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد پولیس اور چیئرمین پی ٹی اے آج عدالت میں موجود تھے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران جسٹس شوکت صدیقی کا کہنا تھا کہ 'لبرل ازم دہشت گردی سے بھی زیادہ خطرناک چیز ہے' اور ایسا گستاخانہ مواد شائع ہونے سے مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption پاکستان میں ماضی میں بھی توہین آمیز مواد کی موجودگی پر مختلف ویب سائٹس پر بندش لگائی جا چکی ہے

انھوں نے سیکریٹری داخلہ کو حکم دیا کہ ایسے مواد اور اس کے ذمہ داران کی نشاندہی کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکشیل دی جائے جس کے تمام شرکا آئین کے مطابق مسلمان ہونے کی شرط پر پورا اترتے ہوں۔

واضح رہے کہ شوکت عزیز صدیقی نے ہی گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے خلاف مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کا حکم دیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔

درخواست گزار سلمان شاہد کے وکیل طارق اسد کی جانب سے متنازع مواد شائع کرنے والے افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست پر جسٹس شوکت صدیقی نے وزارتِ داخلہ کو حکم دیا کہ ایسے تمام مشکوک افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کیے جائیں۔

طارق اسد ایڈووکیٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ توہین آمیز مواد یہ معاملہ سنہ 2014 سے چل رہا ہے اور ان کے موکل نے 15 جنوری 2017 کو تھانہ آئی نائن میں اس سلسلے درخواست دی تھی جس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ YouTube
Image caption پاکستان میں یو ٹیوب تک رسائی تقریباً 40 ماہ تک بند رہی تھی

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ایف آئی اے سے بھی تحقیقات کی درخواست کی گئی تھی تاہم اس سے یہ کہہ کر انکار کر دیا گیا کہ انھیں دباؤ کا سامنا ہے کہ کوئی کارروائی نہ کی جائے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ پی ٹی اے کے حکام سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو انھیں بتایا گیا کہ 'آئی ایس آئی ایسا نہیں کرنے دے رہی۔'

خیال رہے کہ پاکستان میں ماضی میں بھی توہین آمیز مواد کی موجودگی پر مختلف ویب سائٹس پر بندش لگائی جا چکی ہے۔

سنہ 2012 میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں قابلِ اعتراض فلم 'انوسنس آف مسلمز' کی جھلکیاں دکھانے پر دنیا کی مقبول ترین ویڈیو سٹریمنگ ویب سائٹ یو ٹیوب پر پاکستان میں پابندی لگا دی گئی تھی اور تقریباً چالیس ماہ کی بندش کے بعد جنوری 2016 میں اسے اس وقت بحال کیا گیا تھا جب یوٹیوب نے پاکستان کا مقامی ورژن لانچ کیا تھا۔

اسی بارے میں