ورلڈ وائیڈ ویب کے بانی ٹم برنرز لی کا انٹرنیٹ پر جعلی خبریں روکنے کا منصوبہ

سر ٹم تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سر ٹم نے انٹرنیٹ پر غلط خبروں کو روکے جانے کی حمایت کی ہے

ورلڈ وائیڈ ویب کے موجد سر ٹم برنرز لی نے انٹرنیٹ پر مواد کے غلط استعمال اور جعلی خبروں کو روکنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔

ویب کی 28ویں سالگرہ کے موقعے پر اپنے کھلے خط میں سر ٹم نے پانچ برسوں پر محیط ایک حکمت عملی پیش کی ہے اور ویب کے موجودہ استعمال پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

٭ جرمنی میں فیس بک پر جھوٹی خبروں کی نشاندہی ممکن

٭ تھائی لینڈ: فیس بک نے دھماکے کا غلط الرٹ جاری کیا

سر ٹم نے کہا ہے کہ وہ ذاتی معلومات کے غلط استعمال کو روکنے سے اس کی ابتدا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان معلومات کا غلط استعمال ’اظہار رائے کی آزادی کو شدید طور پر متاثر کرتا ہے۔‘

انھوں نے ’غیر اخلاقی‘ سیاسی تشہیری مواد کے خلاف سخت ضوابط وضع کرنے کی حمایت بھی کی ہے۔

برطانوی کمپیوٹر سائنسدان چاہتے ہیں کہ ایسے لوگ جنھوں نے اپنے بلاگز، ٹویٹس، تصاویر، ویڈیو اور ویب صفحات کے ذریعے ویب کے فروغ میں کردار ادا کیا ہے وہ عملی حل کے ساتھ سامنے آئیں تاکہ ایسا ویب تیار کیا جا سکے جو ’لوگوں کو مساوی قوت اور مواقع فراہم کرے۔‘

سر ٹم نے کہا کہ عام طور پر لوگ ویب سائٹوں کو یہ نہیں بتا پاتے ہیں ان کے کس مواد کو شیئر نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ شرائط یا تو ’سب کچھ ہیں یا پھر کچھ نہیں۔‘

سر ٹم نے کہا کہ وہ کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ ’ڈیٹا کا کنٹرول بہت حد تک لوگوں کے پاس ہی رہے۔‘

انھوں نے حکومت کی نگرانی پر خدشات ظاہر کیے جو کہ بہت آگے تک جاتی ہے اور صحت، جنسیت اور مذہب جیسے حساس موضوعات سے متعلق مواد تک رسائی کو روکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سر ٹم نے کہا کہ آن لائن سیاسی اشتہار بازی ایک 'پیچیدہ' صنعت بن چکی ہے

سر ٹم نے کہا کہ سماجی رابطوں کی سائٹس اور سرچ انجن کو جھوٹی خبروں کے مسائل سے نمٹنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض منطقی اصول ایسی سنسی خیز معلومات کو پھیلا سکتے ہیں جن میں صداقت نہ ہو اور وہ ’جنگل کی آگ کی طرح پھیل جائیں۔‘

ان کے مطابق سوشل میڈیا کی آمد اور کلک کی دوڑ نے حقیقی اور افسانوی کہانیوں کا فرق مٹا دیا ہے۔

سر ٹم نے شفافیت کی حمایت کی ہے تاکہ صارفین یہ سمجھ سکیں کہ ویب پیج ان کی مشینوں (کمپیوٹر، ٹیب یا فون) پر کیسے نظر آتے ہیں اور انھوں نے سائٹس کو یکساں قسم کے اصول پر کاربند رہنے کے لیے کہا ہے۔

انھوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ آن لائن سیاسی اشتہار بازی ایک ’پیچیدہ‘ صنعت بن چکی ہے۔

سر ٹم نے کہا کہ ایسی علامات نظر آئی ہیں کہ مرتکز اشتہار کو ’غیر اخلاقی طور‘ پر ووٹروں کو انتخابات سے دور رکھنے اور انھیں غلط خبر کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

انھوں نے کمپنیوں کو خدمات فراہم کرنے کے لیے قیمت رکھنے کی ترغیب دی ہے نہ کہ اس طرح کے اشتہارات سے پیسے حاصل کیے جائیں۔

اسی بارے میں