خاموش بیماری جو لاکھوں جانیں لے جاتی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Patrick Kane
Image caption پیٹرک نے لندن کے سینٹ میریز ہسپتال میں ساڑھے تین ماہ گزارے۔ ان کی بیماری اتنی شدید تھی کہ گھٹنے سے نیچے ان کی دائیں ٹانگ، بائیں بازو، اور دائیں ہاتھ کی انگلیاں سب ضائع ہو گئیں

پیٹرک کین کا کہنا ہے کہ ’میرے دل کی دھڑکن سات مرتبہ رک گئی اور کافی دیر تک یہ واضح نہیں تھا کہ کیا میں بچ پاؤں گا یا نہیں۔‘

وہ ایک ایسی بیماری کی وجہ سے مر جانے والے تھے جو کہ برطانیہ میں ہر سال مجموعی طور پر آنتوں، بریسٹ اور پراسٹیٹ کینسر کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کو ملا کر بھی اس سے زیادہ جانیں لیتی ہے۔

پیٹرک صرف نو ماہ کی عمر کے تھے جب ایک صبح وہ بے ہوش ہوگئے۔

ان کے فیملی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ پیٹرک کو صرف کال پول دوائی چاہیے تھی مگر ان کی والدہ کو شک تھا کہ معاملہ زیادہ سنگین ہے۔ اسی لیے وہ پیٹرک کو ہسپتال لے گئیں۔

مگر ہسپتال کے راستے میں چیزیں اور زیادہ خراب ہونے لگیں۔ اور ہسپتال پہنچنے تک ان کے مختلف اندرونی اعضا ناکام ہونے لگے۔

پیٹرک نے لندن کے سینٹ میریز ہسپتال میں ساڑھے تین ماہ گزارے۔ ان کی بیماری اتنی شدید تھی کہ گھٹنے سے نیچے ان کی دائیں ٹانگ، بائیں بازو، اور دائیں ہاتھ کی انگلیاں سب ضائع ہو گئیں۔

اور آج، کئی سالوں بعد، 19 سالہ پیٹرک یونیورسٹی آف ایڈنبراہ میں بائیو کیمسٹری کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

اور جو ان کو بیماری تھی، اس کا نام ہے سیپسز۔

تصویر کے کاپی رائٹ Patrick Kane
Image caption آج 19 سالہ پیٹرک یونیورسٹی آف ایڈنبرا میں بائیو کیمسٹری کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پیٹرک کا کہنا تھا کہ سیپسز ایک ایسی بیماری ہے جو کہ عام فہم میں نہیں آئی۔ ’یا تو آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کو یہ بیماری ہے یا پھر آپ نے اس کے بارے میں عموماً سنا ہی نہیں ہوتا۔‘

سیپسز کیا ہوتا ہے؟

سیپسز کسی بھی انفیکشن کی وجہ سے شروع ہوتا ہے مگر اصل مسئلہ ہماری قوتِ مدافعت کا ضرورت سے زیادہ حرکت میں رہنا ہوتا ہے۔

کوئی بھی انفیکشن جب جسم میں آتا ہے تو قوتِ مدافعت اس کا مقابلہ کرتی ہے۔ سیپسز کے مریض میں قوتِ مدافعت ضرورت سے زیادہ کام کرتی ہے اور جسم کے انفیکشن سے پاک حصوں کو بھی نقصان پہنچانے لگتی ہے۔ اس کی وجہ سے مختلف اندرونی اعضا کا فیل ہونا اور سیپٹک شاک، یہاں تک کہ موت کا خطرہ ہوتا ہے۔

برطانیہ میں ہر سال اس بیماری سے 44000 لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔

سیپسز کی علامات کیا ہیں؟

برطانیہ میں سیپسز ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ ان چھ علامات سے باخبر رہنا چاہیے:

- بات کرتے وقت زبان کا لڑکھڑانا

- حد سے زیادہ کانپنا یا پٹھوں میں تکلیف

- پورے دن میں پیشاپ نہ آنا

- حد سے زیادہ سانس چڑھنا

- مریض کا ایسا محسوس کرنا کہ وہ مرنے والا ہے

- جلد کی رنگت کھو جانا

چھوٹے بچوں میں اس کی علامات یہ ہو سکتی ہیں:

- بچے کا رنگ کھونے لگے یا وہ نیلا لگنے لگے

- بچہ انتہائی تھکا ہوا رہے اور اسے نیند سے اٹھانا مشکل ہو

- چھونے پر بچہ انتہائی ٹھنڈا ہو

- انتہائی تیزی سے سانس لے

- اس کی جلد پر ایسی خراش ہو جو کہ دبانے سے رنگ نہ بدلے

- بچے کو جھٹکے لگیں

پیٹرک کا کہنا ہے کہ سیپسز کی کوئی ایک واضح علامت نہیں ہے مگر لوگوں کو خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں کوئی اور لگنے والی بیماری سیپسز تو نہیں؟

کیا سیپسز ک بارے میں کچھ کیا جا سکتا ہے؟

اس حوالے سے برطانیہ میں این ایچ ایس کوششیں کر رہی ہے مگر شاید وہ کافی نہیں ہیں۔ 2015 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی میں داخل کیے جانے والے ہر 10 مریضوں میں سے 4 ایسے ہیں جن کا جائزہ درکار وقت میں نہیں کیا جاتا اور تقریباً ایک تہائی کیسز میں اینٹی بائیوٹکس دینے میں تاخیر کی وجہ سے مسائل ہوتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے لیے علاج کے بہترین طریقے تعین کرنے والے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے نئے قوانین بنا رہے ہیں۔

تنظیم کی ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو کا کہنا ہے کہ ’حالیہ کیسز کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مختلف لوگوں کو سیپسز کی مختلف علامات ہوتی ہیں اور ان میں کوئی مسلسل طور پر سامنے نہیں آتی۔‘

’تیزی سے علاج کرنے کے لیے اور زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔‘

اسی بارے میں