مصر میں ’فرعون رعمسیس دوئم‘ کے مجسمے کا دھڑ نکال لیا

مجسمہ تصویر کے کاپی رائٹ AP

مصر میں ممکنہ طور پر تین ہزار سال قدیم ایک بڑے مجسمے کا دھڑ کیچڑ سے نکالا گیا ہے جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک معروف فرعون کا مجسمہ ہو سکتا ہے۔

اس مجسمے کا انتہائی بڑا سر اور دیگر حصے گذشتہ ہفتے بھی اسی مقام سے نکالے گئے تھے۔

یہ باقیات شمال مشرقی قاہرہ میں رعمسیس دوئم جو عظیم رعمسیس کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں کے مندر کے پاس سے ملی ہیں۔ ماہرین کو ایسا لگتا ہے کہ یہ مجسمہ رعمسیس کا ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پیر کے روز کرینوں کی مدد سے گہرے گدلے پانی میں سے اس مجسمے کا دھڑ نکالا گیا
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آثار قدیمہ کے محکمے کا کہنا ہے کہ مجسمے کے ٹکڑوں کو مرکزی قاہرہ میں میوزیم میں لے جا کر جوڑا جائے گا، انھیں امید ہے کہ ان دو بڑے ٹکڑوں کو ایک جگہ رکھنا ممکن ہو گا
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ مجسمہ دانے دار چٹان سے بنایا گیا ہے
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مجسمہ ملنے کے مقام کے قریب رہنے والے افراد نے اس مجسمے کو نکالے جانے کی ساری کارروائی اپنے گھروں کی کھڑکیوں سے جھانک کر دیکھی، ایک مصر کے ماہر کا کہنا تھا کہ ’یہ مجسمہ بالکل اصلی لگتا ہے، یہ ایک اہم دریافت ہے‘
تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مصری اور جرمن ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے گذشتہ ہفتے یہ مجسمہ دریافت کیا تھا، اس مجسمے کا وزن تین ٹن ہے۔ کھدائی کا کام منگل کو مکمل کر لیا جائے گا
تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس سے قبل جمعرات کو مجسمے کا ایک اور ٹکڑا جو کے اس کا سر تھا نکالا گیا تھا

اسی بارے میں