ہیکنگ کے ذریعے تاوان کے بڑھتے واقعات، ماہرین کا انتباہ

سائبر سکیورٹی تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption ایسی ڈیوائسز جن میں تصاویر، ای میلز اور صحت سے متعلق معلومات ہوں نشانہ بن سکتی ہیں

سائبر سکیورٹی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سمارٹ فون، گھڑیاں، ٹی وی اور فٹنس ٹریکرز کے ذریعے لوگوں کی ذاتی معلومات چوری کر کے ان سے تاوان لینے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

٭’جنوبی کوریا کا سائبر کمانڈ سسٹم ہیک کر لیا‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ رینسم ویئر کے ذریعے ان ڈیوائسز کو ان کے اپنے ہی مالک استعمال نہیں کر سکتے اور ان لاک کرنے کے لیے انھیں تاوان کی رقم دینا ہوتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایسا گذشتہ برسوں میں بہت زیادہ ہوا ہے۔

ایسی ڈیوائسز جن میں تصاویر، ای میلز اور صحت سے متعلق معلومات ہوں نشانہ بن سکتی ہیں۔

نیشنل کرائم ایجنسی اور سائبر سکیورٹی سینٹر کا کہنا ہے کہ بزنس کو اس سے ہونے والے نقصانات بڑھ رہے ہیں۔

ان دونوں اداروں کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سائبر جرائم برھتے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے جتنی زیادہ ڈیوائسز کو انٹرنیٹ سے منسلک کیا جائے گا اس سے جرائم کے مواقع اتنے ہی زیادہ بڑھیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کسی چھوٹے کاروبار یا عوام کو نشانہ بنانے کے لیے بہت ہی کم تکنیکی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے: رپورٹ

ذاتی معلومات کو جیسا کہ تصاویر وغیرہ جنھیں لوگ بہت اہم سمجھتے ہیں اور ان کے بدلے رقم بھی دیتے ہیں، مجرم زیادہ نشانہ بناتے ہیں۔

ان ڈیوائسز میں ایک محدود حد تک سکیورٹی ہوتی ہے۔

اس رپورٹ میں ان تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ جرم کا ارتکاب کرنے والے گینگز ویسی ہی اعلیٰ ٹیکنالوجی آلات استعمال کرتے ہیں جو ریاست اپنے اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ کسی چھوٹے کاروبار یا عوام کو نشانہ بنانے کے لیے بہت ہی کم تکنیکی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں 21 لاکھ ڈیوائسز استعمال ہو رہی ہیں جن کے بارے میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہ سنہ 2020 تک انٹرنیٹ سے منسلک ہو جائیں گی۔

رپورٹ کے مطابق ابھی برطانیہ میں سائبر حملوں کی اصل قیمت معلوم نہیں ہو سکی۔

این سی ایس سی کے قیام کے تین ماہ بعد 188 ہائی لیول اور لاتعداد چھوٹی نوعیت کے سائبر حملوں کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

یہ رپورٹ منگل کو شائع ہوگی اور این سی ایس سی اس حوالے سے کانفرس کی میزبانی کر رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں