جلدی بیماریوں کے لیے استعمال ہونے والی کریموں سے آگ لگنے کا خطرہ

  • 19 مار چ 2017
تصویر کے کاپی رائٹ Carol Hoe
Image caption کیرول ہو کے شوہر فلپ 2006 میں اچانک اسی طرح سے آگ لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے

ایگزما، داد یا کھجلی جیسی جلد کی بیماریوں کے لیے استعمال میں آنے والی ایسی کریم، جو پیرافین سے تیار کی گئی ہیں، سے آگ لگنے کا خطرہ رہتا ہے جنھیں استعمال کرنے والا شخص خود کو جلا بھی سکتا ہے۔

اگر کوئی اس طرح کی کریم مستقل استعمال کرتا ہے اور اپنے کپڑے یا بستر کی چادر وغیرہ تبدیل نہیں کرتا تو پیرافین کی تھوڑی مقدار اس میں جذب ہوتی رہتی ہے جو ماچس یا لائٹر کے شعلے سے آگ پکڑ سکتی ہیں۔

برطانیہ میں ادویات کی نگرانی کرنے والے ادارے نے ہدایات جاری کی ہیں کہ جو کریم پیرافین سے بنی ہوں ان سب پر اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے تنبیہی نشانات ہونے چاہیں۔

بی بی سی کی ایک تفتیشی رپورٹ کے مطابق ایسے وارننگ سائن کے باوجود بھی 2010 سے اب تک تقریبا 37 اموات ایسی ہوئی ہیں جو اس طرح کی کریم سے آگ لگنے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

Image caption جو کریم پیرافین سے بنی ہوں ان سب پر آگ لگنے کے تنبیہی نشانات ہونے چاہیں

کیرول ہو کے شوہر فلپ 2006 میں اچانک اسی طرح سے آگ لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔ انھوں نے اپنے جسم پر ایسی ہی کریم لگا رکھی تھی۔ انھوں نے سگریٹ جلانے کے لیے لائٹر جلایا جس کا شعلہ اتفاق سے اس کریم سے لگا اور انھیں آگ لگ گئی۔

کیرل نے بتایا کہ ان کے شوہر کا جلد کی بیماری کے لیے علاج چل رہا تھا جس کے لیے وہ ایسی ہی کریم استعمال کرتے رہتے تھے۔ آگ لگتے ہی ان کا بدن جل اٹھا جس کے بعد ہسپتال میں ان کی موت ہوئی۔

کیرول نے بتایا: 'جب ہم ہسپتال پہنچے تو سٹاف نے ہمیں بتایا کہ وہ تقریبا 90 فیصد تک جل چکے ہیں۔ وہ کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔'

اس واقعے کے بعد ہی جلد کی بیماریوں والی کریم سے ہونے والے خطرات کے طرف ماہرین کی توجہ ہوئی اور مریضوں کے تحفظ سے متعلق ایجنسی نے خبردار کیا کہ پیرافین سے تیار ہونے والی اشیا میں آسانی سے آگ لگنے کا خطرہ رہتا ہے۔

Image caption جس پروڈکٹ میں 50 فیصد سے زیادہ پیرافین کا استعمال ہوا اس پر آگ لگنے کے خطرے کے بارے میں تنبیہی نشان ضرور ہونا چاہیے

دی میڈسن اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹ ریگولیٹری ایجنسی نے بھی اس سلسلے میں دو بار مزید خبردار کیا تھا لیکن ایسی کریم سے ہلاکتوں کا سلسلہ پھر بھی جاری رہا۔

ابھی حال ہی میں مذکورہ ایجنسی نے ہدایات جاری کی ہیں کہ جس بھی پروڈکٹ میں 50 فیصد سے زیادہ پیرافین کا استعمال ہوا اس پر آگ لگنے کے خطرے کے بارے میں تنبیہی نشان ضرور ہونا چاہیے۔

ایجنسی دوا ساز کمپنیوں پر بھی اس بات کے لیے زور ڈال رہی ہے کہ پیرافین سے تیار ہونے والی تمام ایسی کریموں کے ٹیوب اور پیکنگ پر بھی تنبیہی نشانات درج کیے جائیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں