سری لنکا میں ماں بننے کے لیے ایک برس کی چھٹی مل سکتی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکومت نے ایسی خواتین کو بغیر تنخواہ کے زیادہ سے زیادہ ایک برس کی چھٹی دینے کا فیصلہ کیا ہے

سری لنکا کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جن سرکاری ملازم خواتین کو حمل ٹھہرنے میں پریشانیوں کا سامنا ہو انھیں اس کے علاج کے لیے ایک برس تک چھٹی مل سکتی ہے۔

حکومت نے ایسی خواتین کو بغیر تنخواہ کے زیادہ سے زیادہ ایک برس کی چھٹی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

بی بی سی تمل سروس کے نمائندے ادے کمار رتنائگم کے مطابق یہ رعایت صرف سرکاری خواتین ملازمین کے لیے ہے۔

وہ خواتین جو حاملہ ہونے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں وہ اس چھٹی کے دوران ملک یا پھر بیرون ملک جا کر اپنا علاج کروا سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images/AFP
Image caption سری لنکا میں اولاد کی خواہش رکھنے والے ایسے بہت سے جوڑے علاج کے لیے پڑوسی ملک بھارت آتے ہیں

حکومت نے اس کے لیے شرط یہ رکھی ہے کہ چھٹی کے لیے متعلقہ مرض کے طبی ماہرین کی سفارش ضروری ہے جو تحریری طور پر یہ بتائیں کہ انھیں یہ پریشانی ہے جس کے علاج کی ضرورت ہے۔

ایسے میڈیکل ماہرین کی سفارش کی بنیاد پر ہی فرٹیلٹي ٹریٹمنٹ کے لیے سرکاری چھٹی ملے گی۔

سری لنکا میں اولاد کی خواہش رکھنے والے ایسے بہت سے جوڑے علاج کے لیے پڑوسی ملک بھارت آتے ہیں اور ریاست تمل ناڈو میں علاج کو ترجیح دیتے ہیں۔

حال ہی میں انڈيا کی حکومت نے بھی کام کرنے والی خواتین کی میٹرنٹی تعطیل کو تین ماہ سے بڑھا کر چھ ماہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں