تپِ دق کی تشخیص میں اہم پیش رفت

تپِ دق

اوکسفرڈ اور برمنگھم کے سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انھوں نے تپِ دق کی تشخیص میں جینوم سیکونسنگ کا طریقہ استعمال کر کے اہم پیش رفت حاصل کر لی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے جن مریضوں کو درست دوا کے انتخاب کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا اب ان کے اندر بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کی شناخت چند دنوں کے اندر اندر ہو سکے گی، جس سے علاج مزید موثر ہو جائے گا۔

24 اپریل کو دنیا بھر میں تپِ دق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔

برطانوی وزیرِ صحت جیریمی ہنٹ نے کہا کہ اس پیش رفت سے 'زندگیاں بچائی جا سکیں گی۔'

برطانیہ میں تپِ دق کے مریضوں کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے، لیکن اس کے باوجود انگلینڈ میں اس مرض کی شرح یورپ کے دوسرے ملکوں کے مقابلے پر زیادہ ہے۔

سائنس دانوں نے کہا ہے کہ جینوم سیکونسنگ کی مدد سے وہ ایک ہفتے میں مختلف نمونوں کے اندر ڈی این اے کی شناخت کر سکتے ہیں۔

جلد تشخیص کی بدولت مریضوں کا علاج جلد شروع کیا جا سکتا ہے اور اس سے بیماری کے دوسرے لوگوں تک پھیلنے کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے۔

مائیکرو بیالوجسٹ پروفیسر گریس سمتھ کہتی ہیں: 'ہم یہ معلومات دے سکتے ہیں کہ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کون سے ہیں اور ان پر کون سی ادویات اثر نہیں کرتیں۔'

پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے کہا ہے کہ یہ تکنیک دنیا میں پہلی بار بڑے پیمانے پر استعمال کی جا رہی ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں تشویش ہے کہ تپِ دق کے ایسے جراثیم سامنے آ رہے ہیں جن پر اینٹی بیاٹک ادویات اثر نہیں کرتیں۔ اس کے باعث تپِ دق کو دنیا سے ختم کرنے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔

وزیرِ صحت جیریمی ہنٹ نے کہا: 'اگر ہم یہ دکھا سکیں کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تپِ دق کی تشخیص کے لیے درکار وقت کم کیا جا سکتا ہے تو اس سے ان کا جلد علاج شروع کیا جا سکے گا۔ اس سے ہم اپنے ملک سے تپِ دق کو مٹانے کے ہدف کے مزید قریب آ جائیں گے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں