راتوں کو بار بار بیت الخلا جانے کی وجہ کھانے میں زیادہ نمک

بےخوابی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جاپانی سائنس دانوں نے کہا ہے کہ وہ لوگ جنھیں راتوں کو اٹھ اٹھ کر باتھ روم جانا پڑتا ہے، انھیں چاہیے کہ وہ کھانے میں نمک کم کر دیں۔

یہ مسئلہ بڑی عمر کے لوگوں کو خاص طور پر متاثر کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں نیند کی خرابی زندگی کے معمولات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

300 رضاکاروں پر کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ نمک کم کر دینے سے باتھ روم کے چکر کم ہو جاتے ہیں۔

ناگاساکی یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے ان مریضوں کا تین ماہ تک مشاہدہ کیا جنھیں بےخوابی کی شکایت تھی اور انھیں مشورہ دیا کہ وہ کھانے میں نمک کی مقدار گھٹا دیں۔

اس طرح ان کے راتوں کو باتھ روم کے چکر دو گنا سے بھی کم ہو گئے۔

رضاکاروں نے کہا کہ اس سے ان کی زندگی کا معیار بہتر ہو گیا ہے۔

دوسری طرف 98 رضاکاروں سے کہا گیا کہ وہ نمک کا استعمال بڑھا دیں۔ نتیجتاً وہ زیادہ بار باتھ روم جانے لگے اور ان کی نیندیں متاثر ہونے لگیں۔

تحقیق کے مصنف ڈاکٹر ماتسوو توماشیرو نے کہا ہے کہ اس طرح کے بڑے مطالعہ جات کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ معمر لوگوں میں ان نتائج کی تصدیق کی جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے کہا: 'اس تحقیق سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ خوراک میں معمولی تبدیلی سے بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں خاطرخواہ بہتری لائی جا سکے۔'

یونیورسٹی آف برسٹل کے ڈاکٹر مارکس ڈریک کہتے ہیں کہ عام طور پر نمک کی مقدار کو رات کو باتھ روم جانے کا باعث نہیں سمجھا جاتا، بلکہ زیادہ توجہ پانی کی مقدار پر مرکوز کی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا: 'اب ہمارے پاس ایک کارآمد تحقیق آ گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں اس مرض کی علامات کو دور کرنے کے لیے دوسری چیزوں پر بھی غور کرنا چاہیے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں