امریکہ میں انٹرنیٹ پرائیوسی ختم کرنے پر غم و غصہ

آن لائن سکیورٹی تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption مخالفین کا کہنا ہے کہ پرائیوسی کے نئے قانون سے عوام کی سکیورٹی داؤ پر لگ جائے گی

امریکہ میں انٹرنیٹ کی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بہت جلد صارفین کی معلومات کسی تیسری پارٹی سے شیئر کرنے کے لیے ان سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

منگل کو ایوان نمائندگان نے صدر اوباما کے زمانے کے ایک قانون کو ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا جس کے تحت انٹرنیٹ کمپنیوں کو صارفین کی ذاتی معلومات کسی تیسری کمپنی کو دینے کے لیے ان سے اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے مقابلہ بڑھے گا لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کا آن لائن پرائیویسی پر خوفناک اثرات پڑیں گے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد ہی اس حکم نامے پر دستخط کریں گے۔

اوباما کے دور کے اس قانون کو ختم کرنے کے لیے بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں ویری زون، اے ٹی اینڈ ٹی اور کوم کاسٹ نے زبردست حمایت کی اور ان کا کہنا ہے کہ گوگل اور فیس بک جیسی کمپنیوں کے مقابلے میں دوسری کمپنیوں سے پرائیویسی کے قانون پر زیادہ سختی برتی جاتی ہے۔

جو قانون صدر ٹرمپ کے آنے سے قبل اکتوبر میں منظور ہوا تھا اسے اس سال کے آخر تک نافذ کیا جانا تھا اور اس کے تحت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کو کسی صارف کے جغرافیائی مقام، مالی معلومات، صحت اور بچوں سے متعلق معلومات، سوشل سکیورٹی نمبر، ویب براؤزنگ کرنے کی تفصیلات وغیرہ صارفین کی اجازت کے بغیر کسی کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایف سی سی کے نئے سربراہ اجیت پائي کا کہنا ہے کہ اس قانون کی منسوخی سے آن لائن کی مارکیٹ میں سب کو ایک جیسے مواقعے ملیں گے۔

اور یہ بھی صارفین کی مرضی پر تھا کہ آیا وہ اپنا ای میل ایڈریس اور اس جیسی کم حساس معلومات بھی شیئر کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (ایف سی سی) کے نئے سربراہ اجیت پائی کا کہنا ہے کہ اس قانون کی منسوخی سے آن لائن کی مارکیٹ میں سب کو ایک جیسے مواقعے ملیں گے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ 'گذشتہ سال پسندیدہ کمپنیوں کو ناپسندیدہ کمپنیوں کے مقابلے میں فائدہ پہنچانے کے لیے پالیسیاں ترتیب دی گئی تھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کانگریس نے اس کے خلاف ایک قرارداد منظور کی تھی تاکہ اس طريقہ کار کو روکا جا سکے۔ ‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس سے آگے ہم یہ چاہتے ہیں کہ امریکی عوام یہ جان لے کہ ایف سی سی فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے ساتھ کام کرے گا تاکہ وہ صارفین کی آن لائن پرائیویسی کا مستقل اور جامع فریم ورک کے تحت تحفظ کر سکے۔‘

فائٹ فار دا فیوچر مہم کی ڈائریکٹر ایوان گریر کا کہنا ہے کہ ’کانگریس نے آج ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ عوام کے تحفظ اور سکیورٹی کے بجائے کارپوریشنز کی خواہشات کا زیادہ خیال رکھتی ہے جو کہ انھیں فنڈز فراہم کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہر طرح کی سیاسی سوچ رکھنے والے اس سے ناراض ہیں اور ہر قانون ساز جو ہماری پرائیویسی چھیننے کے لیے ووٹ دے گا وہ آنے والے انتخابات میں پچھتائے گا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں