’سڑک پر اموات کی وجہ سمارٹ فونز کا استعمال‘

سمارٹ فون تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ میں گذشتہ چھ برسوں میں ٹریفک حادثات میں ہونے والی اموات میں چار گنا اضافہ ہوا ہے

امریکہ میں ایک تحقیق کے مطابق پیدل چلنے والے افراد کی اموات میں تیزی سے اضافے کی ایک بڑی وجہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے یا سڑک پار کرتے ہوئے سمارٹ فون کا استعمال ہے۔

یو ایس گورنرز ہائی وے سیفٹی ایسوسی ایشن کے خیال میں سنہ 2016 میں 6000 افراد کی موت سڑک پر پیدل چلتے ہوئے ہوئی، جو گذشتہ 20 برسوں میں سب سے بڑی تعداد ہے۔

گذشتہ چھ برسوں میں ٹریفک حادثات میں ہونے والی اموات میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق جن عوامل کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے اس میں موبائل فون کا استعمال بھی شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’پیدل چلنے والے افراد کی اموات میں اضافے میں ایک حالیہ عنصر کا اضافہ سڑک استعمال کرنے والے تمام صارفین میں سمارٹ فون کے استعمال میں اضافہ ہوسکتا ہے، یہ ڈرائیوروں اور پیدل چلنے والے افراد دونوں کی توجہ ہٹانے کی وجہ ہوسکتا ہے۔‘

دیگر عوامل میں بہت زیادہ ڈرائیونگ، پیٹرول کی کم قیمتیں اور ورزش کے لیے زیادہ چلنا اور ماحولیاتی وجوہات شامل ہیں۔

الکحل بھی کسی حد تک ان اموات کی ذمہ دار ہے، 34 فیصد پیدل چلنے والوں اور 15 فیصد ڈرائیور کسی جان لیوا حادثے کا سبب بنے جب وہ نشے کی حالت میں تھے۔

یہ رپوٹ سنہ 2016 کے پہلے چھ ماہ کے دوران تمام ریاستوں سے اکٹھے کئے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دنیا کے کئی شہروں میں سڑک پر سمارٹ فونزکے استعمال کے حوالے سے کئی اقدامات کیے گئے ہیں

دوسری جانب برطانیہ کی رائل سوسائٹی فار پریوینشن آف ایکسیڈنٹس کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں بھی موبائل فون خطرناک حد تک آپ کی توجہ دوسری جانب مبذول کرواتے ہیں۔

ادارے کے روڈ سیفٹی مینجر نک لائیڈ کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان سڑک پار کرنے کے دوران فون کے استعمال کی وجہ سے خود کو زخمی کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ بات چیت کرنا، موسیقی سننا، ٹیکسٹ بھیجنا یا انٹرنیٹ کا استعمال ہوسکتا ہے۔

دنیا کے کئی شہروں میں سڑک پر سمارٹ فونزکے استعمال کے حوالے سے کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔

جرمنی کے شہر اگسبرگ میں ٹرام سٹیشنوں پر سرخ اور سبز روشنیاں زمین پر لگائی گئی ہیں تاکہ ان لوگوں کو خبردار کیا جاسکے جو 'ڈھٹائی سے اپنے سمارٹ فون کو دیکھتے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں