مستقبل کی ’سمارٹ‘ کچی آبادیاں

تصویر کے کاپی رائٹ PAVEGEN
Image caption فٹبال، برازیل میں ایک مزہب ہے۔ اور ملک کی سب سے مشہور کچی آبادیوں میں فٹبال کے عارضی میدان موجود ہیں جہاں بچے یہ خوبصورت کھیل کھیلتے ہیں۔

کسی بھی شہر میں توانائی میں اضافہ اور کوڑا کرکٹ کم کرنے کے لیے نت نئے طریقے تلاش کرنے ہوتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان دونوں مسائل کا حل شہر کے اندر ہی جدید اور کم تکنیکی اعتبار سے طریقے کار استعمال کرکے موجود ہو۔ لیکن شہر کے جن علاقوں میں ان مسائل کا حل موجود ہوتا ہے حکام ان پر زیادہ توجہ نہیں دیتے۔

بہت سے شہری ٹریفک سے پریشان ہوتے ہیں، لیکن کچی آبادیوں میں رہنے والوں کے لیے پینے کا صاف پانی اور بجلی جیسی بنیادی ضروریات ہی اصل مسئلہ ہے۔

کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔

تو کیا ٹیکنالوجی کا اس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے جس سے دنیا کے سب سے بڑے شہروں کی کچی آبادیوں کے مکینوں کی زندگی میں بہتری آئے؟ صرف یہی نہیں، کیا اس سے شہر کے خوش پوش اور شاندار علاقے بھی سبق سیکھ سکتے ہیں؟

برازیل میں دھوپ کی کمی نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی صرف 0.02 فیصد بجلی شمسی توانائی سے پیدا کی جاتی ہے۔

لیکن ملک کے دوسرے سب سے بڑے آبادی والے شہر ریو میں کچی آبادیوں میں رہنے والوں کے لیے شمسی توانائی روایتی بجلی کے مقابلے میں ایک سستا بہتر متبادل ہے۔

فٹبال، برازیل میں ایک مذہب کی طرح ہے۔ اور ملک کی سب سے مشہور کچی آبادیوں میں فٹبال کے عارضی میدان موجود ہیں جہاں بچے یہ خوبصورت کھیل کھیلتے ہیں۔

بہت سے بچوں کے لیے، سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی میچ اپنے اختتام کو پہنچ جاتا ہے۔ لیکن مورو ڈا مینیرا کے نام سے جانی جانے والی کچی آبادی میں حالات ایسے نہیں۔ یہاں کھلاڑیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایسی لائٹس لگائی ہیں جن سے وہ رات گئے تک اپنا کھیل جاری رکھ سکتے ہیں۔

کھلاڑیوں نے میدان کے گرد چھ فلڈ لائٹس لگائی ہیں۔ یہ لائٹس میدان میں بچھی آسٹروٹرف کے اندر موجود کائنیٹک ٹائلوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ جیسے جیسے کھلاڑی میدان میں بھاگتے ہیں ویسے ویسے یہ ٹائلیں کھلاڑیوں کے قدموں سے پیدا ہونے والی توانائی اپنے پاس محفوظ کرلیتی ہیں۔ یہ توانائی بعد میں میدان میں لگی لائٹس کو روشن کرتی ہیں۔

برطانوی تاجر کیمبل کک، پیوگن نامی کمپنی کے بانی ہیں جو کہ متبادل توانائی حاصلے کرنے کے طریقوں پر کام کرتی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے کچی آبادی کے مکینوں کی توانائی اور سائنس کے بارے میں سوچ تبدیل کردی ہے۔ ہم نے اس آبادی کے بچوں کو دکھایا ہے کہ کیسے کھیل کی طاقت سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PAVEGEN
Image caption لوئس گلہرم کہتے ہیں کہ روشن میدان میں فٹبال کھیلنے سے انھیں ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک 'پیشہ ور کھلاڑی ہیں'

ان بچوں نے ہمیں بتایا کہ اس سے ان کی زندگیاں کیسے تبدیل ہوئی ہیں۔

13 سالہ لوئس گلہرم کہتے ہیں کہ روشن میدان میں فٹبال کھیلنے سے انھیں ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک ’پیشہ ور کھلاڑی ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں: ’یہ پراجیکٹ بہت اچھا ہے کیونکہ اب ہمارے میدان خوبصورت لگتے ہیں۔ یہاں گڑھے نہیں اور میں خود کو تکلیف دیے بغیر کھیل سکتا ہوں۔ میں بہت خوش ہوں کیونکہ اب میرے پاس میرے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کے لیے ایک بہت اچھی جگہ ہے۔‘

ان کے دوست لوکاس کاٹرو کہتے ہیں ’ہمارے نئے میدان خوبصورت اور بہتر ہیں۔ مجھے فٹبال سے پیار ہے اور میں یہ کہ سکتا ہوں کہ اس پراجیکٹ نے میری زندگی بدل دی ہے۔‘

لوئس کہتے ہیں کہ ہم اس میدان میں صرف جوتے پہن کر کھیل سکتے ہیں، اور انھیں بعض اوقات اپنے کزن سے جوتے مانگنے پڑتے ہیں۔

لوکاس بھی یہی کہتے ہیں کہ انھیں کسی نے کسی سے جوتے مانگ کر کھیلنا پڑتا ہے۔

ایک طرف برازیل میں پیوگن متبادل توانائی پر کام کررہی ہے تو دوسری طرف کینیا کہ شہرنیروبی کی سب سے بڑی کچی آبادی کے علاقے کوروگوچو میں بھی شمسی توانائی کا استعمال کیا جارہا ہے۔

جبکہ انڈیا کے شہر ممبئی کی کچی آبادی دھاراوی میں بھی شہر سے نکلنے والے سات ہزار ٹن کچرے کو ری سائیکل کیا جارہا ہے۔

شہری علاقوں کے منصوبہ بندی کرنے والے اب کچرے کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تکنیکی حل استعمال کررہے ہیں۔ کچھ، زیرِ زمین کچرا صاف کرنے کے سسٹم میں سرمایہ کاری کررہے ہیں تو کچھ ’سمارٹ بن‘ جیسی چیزوں کا سہارا لے رہے ہیں، جو کہ ایک ایسا کوڑے دان ہے جو استعمال کرنے والے کو یہ بتاتا ہے کہ کوڑا دان اب بھر گیا ہے اور اس میں مزید کچرے کی جگہ نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں