فیس بک انتقامی پورن کو دوبارہ پوسٹ کرنے سے روکے گا

تصویر کے کاپی رائٹ PA

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک انتقامی پورن کہلائے جانے والی پوسٹس کی اس کے پلیٹ فارم سے تشہیر کو روکنے کے لیے تازہ اقدام اٹھانے والا ہے۔

فیس بک ایسی پوسٹس یا نازیبا تصاویر جن کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہو کہ وہ بنا اجازت کے اپ لوڈ کی گئی ہیں کو ری پوسٹ یا شیئر کرنے ناممکن بنا رہا ہے۔

یہ اقدام فیس بک، میسنجر اور انسٹا گرام پر تو لیے جا رہے ہیں لیکن تاحال ان میں واٹس ایپ شامل نہیں ہے۔

اس بارے میں پہلے سے مہم چلانے والوں نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔

برطانیہ کے ریوینج پورن ہیلپ لائن کی بانی لارا ہیگنز کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک بڑا قدم ہے۔‘

’بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اس قسم کی تصاویر سوشل میڈیا پر گھریلوں مسائل کے وجہ سے پوسٹ کی جاتی ہیں تاکہ کسی کو ہدف بنایا جا سکے۔‘

’اس حوالے سے سب سے بڑا چیلنج لوگوں کو ایسا مواد دوبارہ اپ لوڈ کرنے سے روکنا ہے۔‘

فیس بک انتقامی پورن سے متعلق تصاویر کو خود سے نہیں ہٹائے گا بلکہ اس کے لیے وہ صارفین پر انحصار کرے گا کہ صارفین اس کام کے لیے فیس بک کے رپورٹ ٹول کا استعمال کریں۔

اس کے بعد کمیونٹی آپریشن ٹیم یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا یہ پوسٹس اس پر پورا اترتی ہیں کہ انھیں ہٹایا جا سکے۔

اگر کسی تصویر کے بارے میں یہ فیصلہ ہوجاتا ہے کہ وہ انتقامی پورن ہے تو اسے ہٹا دیا جائے گا اور اسے پوسٹ کرنے والے اکاؤنٹ کو بلاک کر دیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں