500 سال قبل دو جواں سال ستارے ٹکرا کر تباہ

ستاروں کا تصادم تصویر کے کاپی رائٹ stellar explosionImage copyrightALMA (ESO/NAOJ/NRA
Image caption جواں سال ستاروں کے تصادم کا منظر

سائنسدانوں نے دو جواں سال ستاروں کے درمیان شدید ٹکر کی ڈرامائی تصویر لی ہے جس میں ایک دوسرے کی کوکبی نرسری تباہ ہوتے نظر آئی ہے۔

ستاروں کے تصادم کا یہ واقعہ اورائن نامی کہکشاں میں پیش آیا ہے اور یہ دھماکہ تقریباً 500 سال قبل ہوا جس سے گرد اور گیس بکھر گئی۔

٭ ستاروں سے بھری آسماں کی مانگ

٭ ’روزیٹا دمدار ستارے سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا‘

محققوں کا کہنا ہے ان کی ٹکر سے اس قدر توانائی پیدا ہوئی جتنا ہمارا سورج ایک کروڑ سال میں پیدا کرتا۔

اس تصادم کی تفصیلات سائنس کے معروف جریدے ایسٹروفیزیکل جرنل میں شائع ہوئی ہیں۔

اس نئی تصویر میں جو دھماکے کی تصویر سامنے آئی ہے اس میں کواکب کی زندگی کے دوسرے سرے پر ہونے والا دھماکہ ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نئے ستارے اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب وسیع پیمانے پر گیس کے بادل اپنی ہی کشش ثقل کے تحت اپنے آپ میں سمٹتے چلے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ALMA (ESO/NAOJ/NRAO), J. BALLY/H. DRASS ET AL.
Image caption نیلا رنگ انتہائی تیزی سے نکلنے والی گیس کے لیے ہے جبکہ لال رنگ سست رفتاری سے نکلنے والی گیس کو دکھا رہا ہے

ہماری زمین سے ڈیڑھ ہزار نوری سال کی دوری پر ایک بڑے خطے میں کئی جواں سال ستارے بننے لگے جسے اورائن مولیکیولر کلاؤڈ-1 کا نام دیا گيا۔

کشش ثقل ان کو ایک دوسرے کی جانب تیز تر ہوتی ہوئی رفتار کے ساتھ 500 سال قبل تک کھینچتی رہی جس کے نتیجے میں دو جواں سال ستارے یا تو ایک دوسرے میں سما گئے یا پھر ٹکرا گئے جس سے شدید طاقتور دھماکہ ہوا اور اس کے نتیجے میں گیس اور گرد و غبار کے ملبے باہری فضا میں 150 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے نکلے۔

سنہ 2009 میں سائنسدانوں کو اس دھماکے کا صرف ایک اشارہ ملا تھا لیکن اب شمالی چلی میں موجو الما ٹیلیسکوپ سے سائنسدان اس واقعے کی ہائی ریزولیوشن تصویر دیکھنے کے اہل ہو سکے ہیں۔

اس تحقیق کے سربراہ محقق اور کولوراڈو کے پروفیسر جان بیلی نے کہا: 'ہم نے چار جولائی کو اب تک کی اس پرسکون کوکبی نرسری میں آتش بازی کا مظاہرہ دیکھا جس میں ہر سمت بڑی بڑی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں