’غیرمعمولی بلیچنگ‘، گریٹ بیریئر ریف کا دو تہائی حصہ متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ ARC CENTRE OF EXCELLENCE FOR CORAL REEF STUDIES
Image caption آسٹریلین ریسرچ سینٹر آف ایکسیلینس فار کورل ریف سٹڈیز نے آٹھ ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر تقریباً 800 کورل ریفوں کا جائزہ لیا

فضا سے لیے گئے جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ سالوں میں ہونے والی مسلسل غیر معمولی کورل بلیچنگ سے آسٹریلیا کے گریٹ بیریئر ریف کے دو تہائی حصے کو نقصان پہنچا ہے۔

کورل ریف سمندر کے اندر مونگے یا مرجان کی رنگ برنگی چٹانیں ہوتی ہیں، جب کہ بلیچنگ کے عمل میں ماحول کی تپش کے باعث ریف اپنی رنگت کھو دیتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق بلیچنگ تقریباً 1500 کلومیٹر کے حصے پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

حالیہ بلیچنگ کے باعث درمیانی حصے کو نقصان پہنچا ہے جبکہ گذشتہ سال ہونے والی بلیچنگ کے باعث زیادہ تر شمالی حصہ متاثر ہوا تھا۔

جیمز کک یونیورسٹی کے پروفیسر ٹیری ہیوز کا کہنا ہے کہ حکومت کو ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں جلد از جلد کچھ کرنا ہوگا تاکہ مزید بلیچنگ کو روکا جا سکے۔

پروفیسر ٹیری ہیوز نے بی بی سی کو بتایا کہ 1998 کے بعد سے ہم ایسے چار ایونٹ دیکھ چکے ہیں اور ان کے درمیان فاصلہ مختلف رہا ہے لیکن یہ سب سے مختصر فاصلہ ہے جو ہم نے اب دیکھا۔‘

Image caption تین مرتبہ بلیچنگ کے عمل کا شکار ہونے کے باعث کورلز کی خصوصیات اور اقسام میں پہلے ہی تبدیلی آ چکی ہے

ان کا کہنا تھا کہ ’جتنی جلدی ہم عالمی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج پر کارروائی کریں گے اور فاسل فیولز سے دوبارہ پیدا کی جانے والی توانائی کی جانب بڑھیں گے اتنا بہتر ہوگا۔‘

آسٹریلین ریسرچ سینٹر آف ایکسیلینس فار کورل ریف سٹڈیز نے آٹھ ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر تقریباً 800 کورل ریفوں کا جائزہ لیا۔

محقق ڈاکٹر جیمز کیری کا کہنا ہے کہ یہ نقصان غیر معمولی ہے۔

سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے اور بلیچنگ کے عمل کے لیے ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ موسمیاتی مظہر ال نینو کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

تاہم حالیہ نقصان ال نینو کے بغیر ہوا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں