نشے کے عادی سانپ کا علاج

ا‍ژدھے تصویر کے کاپی رائٹ CORRECTIVE SERVICES NSW
Image caption قانونی وجوہات کے سبب اس سانپ کو کوئی نام نہیں دیا جا سکتا

آسٹریلیا میں پولیس نے گذشتہ سال جب منشیات کی لیبارٹری پر چھاپہ مارا تو انھیں منشیات بنانے والی مشینوں اور بڑے پیمانے پر نقدی کی امید تھی۔

لیکن لیبارٹری کی تلاشی لینے کے بعد جو نتیجہ نکلا وہ بہت مختلف تھا۔

٭ لاپتہ شخص اژدھے کے پیٹ سے برآمد

٭ ’نہیں میں نے سانپ کے ساتھ شادی نہیں کی‘

٭ ’قاتلوں کا قاتل‘ سانپ درد سے نجات کا ذریعہ

چھ فٹ لمبے جنگلی اژدھے کو دیکھ کر انھوں نے محسوس کیا کہ سانپ کو واضح طور پر منشیات کی لت ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس نے اپنی جلدوں اور سانس لینے کی نالی کے راستے نشہ آور چیز استعمال کی ہوئی ہے۔

سات ماہ بعد ’انتہائی جارحانہ‘ اژدھے میں اب معمول کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ CORRECTIVE SERVICES NSW
Image caption سانپ کی لمبائی چھ فیٹ ہے اور اسے نشے کی لت تھی

ایک وائلڈ لائف کیئر پروگرام کے تحت 14 قیدیوں نے اس سانپ کی دیکھ بھال کی۔

سڈنی کی ایک نسبتا کم سکیورٹی والی جیل میں 250 جانوروں کی دیکھ بھال کا پروگرام جاری ہے۔

یہاں کئی طرح کے جانوروں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے جن میں کینگرو سمیت دیگر چرند اور پرند تک شامل ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کچھ مجرم ہتھیاروں اور منشیات کے ذخیرے کی حفاظت کے لیے زہریلے سانپ پالتے ہیں۔

اس جنگلی اژدہے کا قانونی وجوہات کی بنا پر ابھی تک کوئی نام نہیں دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ CORRECTIVE SERVICES NSW
Image caption 14 قیدیوں میں سے ایک قیدی کو سانپ کے ساتھ دیھکا جا سکتا ہے

نشے کے مبینہ ڈیلروں کا کیس ایک بار حل ہو جانے کے بعد اژدھے کو اس کے نئے مالک کے پاس بھیج دیا جائے گا۔

جیل کے گورنر ایوان کالڈر نے بتایا کہ جیل میں یہ وائلڈ لائف پروگرام گذشتہ 20 سال سے جاری ہے جس سے قیدیوں کی بحالی میں بھی مدد ملتی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ہم اس کے ذریعے یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جانوروں کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ اور ان کے ساتھ رہنے سے ان میں نرمی پیدا ہوتی ہے اور انسانیت بیدار ہوتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں