ایورسٹ ڈائری: بیس کیمپ سے تین دن دور

سعد محمد تصویر کے کاپی رائٹ Saad Mohammad
Image caption ایورسٹ اپنی پہلی جھلک دکھانے کے لیے آپ کو نامچے بازار سے چار سو میٹر کی بلندی پر بلاتی ہے۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان کوہ پیما سعد محمد دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی مہم پر روانہ ہوئے ہیں۔ اگر وہ یہ چوٹی سر کرنے میں کامیاب رہے تو وہ یہ کارنامہ سرانجام دینے والے چوتھے پاکستانی ہوں گے۔ سعد اس سفر کے دوران بی بی سی اردو کے لیے تصویری و تحریر ڈائری کی شکل میں اپنے تجربات شیئر کریں گے۔

نیپال کا قصبہ ڈبوشا ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ سے تین دن کی دوری پر واقع ہے۔ ایورسٹ کی جانب بڑھتے ہوئے ایسی کالی چٹانیں راستے میں دکھائی دیتی ہیں جن پر قدیم تبتی زبان میں دعائیہ کلمات درج ہیں۔

چلتے چلتے تھک جائیں اور بھوک لگے تو راستے میں جگہ جگہ کیفے نما ڈھابے ہیں جہاں مشروبات اور کھانے کی مختلف اشیا دستیاب ہیں۔

کسی بھی ڈھابے پر آرڈر دے کر سکون سے بیٹھ جائیں اور کھانا آنے تک ارد گرد کے مسحور کن قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Saad Mohammad
Image caption کالی چٹان پر قدیم تبتی زبان میں دعائیہ کلمات درج ہیں

راستہ جہاں خوبصورت ہے وہیں پُرپیچ بھی۔ نیپالی حکومت نے راستے میں آنے والے ندی، نالے عبور کرنے کے لیے جو لوہے کے پل بنا رکھے ہیں انھیں عبور کرتے ہوئے ایک بار تو پلِ صراط ضرور یاد آ ہی جاتا ہے۔

تیز ہوائیں ان پلُوں کو جھولا جھلاتی ہیں اور ایسے وقت میں اگر آپ ان پر موجود ہوں تو سارے وظیفے اور دعائیں بھی بھول جاتی ہیں۔

یہ چھوٹے قد مگر مضبوط جسامت رکھنے والے شرپاؤں کا علاقہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Saad Mohammad
Image caption ایورسٹ کے بیس کیمپ کے راستے میں لوہے کے کئی پل آتے ہیں

بلتستان اور تبت کے افراد سے مشابہت رکھنے والے ان افراد کے سر پر ہی نیپال میں مہم جوئی کا کاروبار چل رہا ہے۔ ساٹھ کلو تک کا وزن اٹھا کر پرخطر پہاڑی راستوں پر باآسانی چلتے جانا ان کا خاصہ ہے۔

وزن اٹھانے کے لیے یہ رواتی ٹوکری نما پٹھو استعمال کرتے ہیں جس میں وزنی چیز ہو یا بڑے حجم کا سامان سب کچھ سما جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Saad Mohammad
Image caption شرپا وزن اٹھانے کے لیے روایتی ٹوکری نما پٹھو استعمال کرتے ہیں

ایورسٹ جسے نیپال میں ’ساگھر ماتا‘ اور تبت میں ’چومولگما‘ کہتے ہیں اپنی پہلی جھلک دکھانے کے لیے آپ کو نامچے بازار سے چار سو میٹر کی بلندی پر بلاتی ہے۔

نامچے بازار پاکستان کے مقبول پہاڑی تفریحی مقام مری جیسا قصبہ ہے مگر یہ ایسا مری ہے جس میں نہ سڑکیں ہیں نہ گاڑیاں مگر لوگ انتہائی خوش مزاج ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Saad Mohammad
Image caption نامچے بازار پاکستان کے مقبول پہاڑی تفریحی مقام مری جیسا قصبہ ہے

یہ ایورسٹ کے راستے میں آنے والا آخری بڑا گاؤں ہے اور یہاں مہم جوئی کے لیے درکار تقریباً ہر چیز ہی دستیاب ہے مگر اتنی مہنگی کہ الامان۔

پانی کی بوتل ڈیڑھ سو کی ہے تو کٹھمنڈو میں 50 روپے میں دستیاب کوکا کولا کی ایک بوتل ایورسٹ کے قریب پہنچنے تک 250 روپے کا ہو جاتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں