قتل کی لائیو ویڈیو نشر ہونے پر فیس بک کی اپنی خامیوں پر نظرثانی

سٹیو سٹیفن تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption پولیس کو اس واقعے میں سٹیو سٹیفن نامی مشتبہ شخص کی تلاش ہے

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک نے اپنے نیٹ ورک پر تشدد پر مبنی مواد سے نمٹنے کے لیے نظرثانی شروع کی ہے۔

فیس بک کی جانب سے ان اقدامات کا اعلان سنیچر کو امریکہ میں ایک شخص کے قتل کو فیس بک پر لائیو نشر کرنے کے واقعے کے بعد کیا گیا ہے۔

٭ کلیولینڈ پولیس فیس بک پر لائیو قاتل کے تعاقب میں

٭فیس بک پر لائیو ’جنسی حملہ‘ دکھانے پر 14 سالہ لڑکا گرفتار

دوسری جانب امریکی ریاست اوہایو سمیت پانچ ریاستیں اس واقعے میں ملوث سٹیو سٹیفن نامی مشتبہ شخص کی تلاش میں ہیں۔

فیس بک کے گلوبل آپریشنز کے نائب صدر جسٹن اوفسکائی نے کہا ہے کہ اس خوفناک واقعے کے نتیجے میں ہم اطلاع دینے کے نظام میں موجود خامیوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ لوگ آسانی سے جتنا جلدی ممکن ہو سکے ویڈیو اور دوسرے ایسے مواد کے بارے میں اطلاع کر سکیں جو ہماری معیار کے خلاف ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس واقعے میں ہمیں پہلی ویڈیو کے بارے میں اطلاع نہیں ملی جس میں مشتبہ شخص کہہ رہا تھا کہ وہ قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ہمیں صرف دوسری ویڈیو کے بارے میں رپورٹ موصول ہوئی جس میں فائرنگ کی گئی اور یہ ویڈیگ ایک گھنٹہ اور 45 منٹ تک فیس بک پر موجود رہی۔

فیس بک کے اہلکار کے مطابق انھیں ایک تیسری ویڈیو کے بارے میں معلوم ہوا جس میں اس شخص کا براہ راست اعتراف جرم شامل ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ'ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں بہتری کی ضرورت ہے۔'

سٹیو سٹیفن نامی مشتبہ شخص نے ایک علیحدہ ویڈیو پوسٹ میں کہا تھا کہ اس نے 13 افراد کا قتل کیا ہے اور وہ مزید قتل کرنے والا ہے۔

کلیولینڈ پولیس کے سربراہ کالون ولیئمز نے ایک ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ انھیں باقی کسی اور ہلاکت کی معلومات نہیں ہیں۔

کالون ولیئمز نے کہا ہے کہ مختلف قسم کی سکیورٹی فورسز سٹیو سٹیفن کی تلاش میں ہیں۔

کلیولینڈ پولیس نے ان کا شکار ہونے والے کی شناخت 74 سالہ رابرٹ گاڈون کے طور پر کی ہے۔

خیال رہے کہ فیس بک پر براہ راست قتل کے دکھائے جانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گذشتہ سال جون میں شکاگو کی ایک سڑک پر ایک شخص نے فیس بک لائیو کے دوران خود کو گولی مار کر حودکشی کر لی تھی، جبکہ مارچ میں ایک نا معلوم شخص نے براہ راست نشریات میں 16 بار فائرنگ کی تھی۔

فیس بک لائیو میں کسی بھی شخص کو ریئل ٹائم میں براہ راست نشر کی سہولت فراہم رہتی ہے۔ یہ سہولت سنہ 2010 میں شروع کی گئي تھی لیکن اب اس کا رواج عام ہوچکا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں