انڈین ہسپتال کے ڈاکٹروں کا دعویٰ ’جھوٹ پر مبنی ہے‘

ایمان احمد تصویر کے کاپی رائٹ SAIFEE HOSPITAL
Image caption ایمان احمد سیفی ہسپتال میں ڈاکٹر کے ساتھ

انڈیا کے شہر ممبئی کے سیفی ہسپتال میں مصر سے انڈیا میں وزن کم کروانے کے لیے آنے والی مصری خاتون کی بہن نے ہسپتال کے ڈاکٹروں پر جھوٹ اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا ہے۔

ایمان احمد کی بہن شائمہ سلیم نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ایمان احمد بہت بیمار ہیں اور سیفی ہسپتال کی جانب سے کیا جانے والا دعویٰ کہ ان کی بہن کا وزن پہلے سے نصف وزن کم ہو گیا جھوٹ ہے۔

انڈیا میں دنیا کی 'سب سے وزنی' خاتون کا آپریشن

پولیس اہلکار کو موٹاپے کے تمسخر اڑانے والی ٹویٹ کا فائدہ، مفت سرجری ہو گئی

500 کلو وزنی مصری خاتون علاج کے لیے ممبئی میں

دنیا کی 'وزنی ترین خاتون' کی انڈیا میں سرجری ہوگی

خیال رہے کہ انڈیا کے سیفی ہسپتال نے گذشتہ ہفتے ایک ویڈیو فوٹیج جاری کی تھی جس میں ایمان احمد کو ہسپتال کے ایک بیڈ پر بیٹھا ہوا دکھایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ SAIFEE HOSPITAL

سیفی ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایمان احمد کا رواں برس فروری سے اب تک 250 کلو گرام وزن کم ہوا ہے۔

ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایمان احمد کی بہن کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات جھوٹ ہیں اور اب ایمان واپس مصر نہیں جانا چاہتیں۔

اس سے پہلے سیفی ہسپتال کا کہنا تھا کہ مصر سے انڈیا میں وزن کم کروانے کے لیے آنے والی مصری خاتون کا وزن آپریشن کے بعد آدھا رہ گیا ہے۔

سیفی ہسپتال کے مطابق آپریشن سے پہلے ایمان احمد کا وزن 500 کلو گرام تھا لیکن آپریشن کے بعد ان کا وزن 250 کلو رہ گیا تھا۔

دو ماہ قبل ممبئی کے سیفي ہسپتال کے ڈاکٹر مضفل لكڑاوالا کی قیادت میں ان کی سرجری ہوئی تھی۔

36 سالہ مصری خاتون ایمان احمد العبدالآتی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے ممبئی لائی گئی تھیں اور انھیں سیفی ہسپتال میں داخل کیا گيا تھا۔

ایمان احمد عبدالآتی کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے 25 سال تک وہ اپنے گھر سے نہیں نکل پائیں۔

سیفی ہسپتال کا کہنا تھا کہ وزن کم ہونے کی وجہ سے اب وہ وہیل چیئر پر زیادہ وقت تک بیٹھ سکتی ہیں۔ ہسپتال نے ان کی سرجری کے بعد کی کچھ تصاویر بھی جاری کی تھیں۔

ڈاکٹر لكڑاوالا نے ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایمان احمد کا وزن بتدریج کم ہو رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بچپن میں سٹروک کی وجہ سے اب بھی ان کے جسم کا ایک حصہ مفلوج ہے اور انھیں بولنے اور کچھ نگلنے میں ابھی بھی پریشانیوں کا سامنا رہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ COURTESY: DR MUFFAZAL LAKDAWALA

ڈاکٹر لکڑوالا کے مطابق مریض کے خاندان نے بتایا کہ جب وہ 11 سال کی تھیں تو ان کا وزن اتنا زیادہ تھا کہ وہ کھڑی نہیں ہوسکتی تھیں اور رینگ کر چلتی تھیں۔

ہسپتال کو اس بات کا انتظار ہے کہ ایمان احمد کا وزن اتنا کم ہو جائے کہ وہ سی ٹی سکین مشین میں فٹ ہو سکیں اور پھر اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ آخر سٹروک کی وجہ کیا تھی۔

عبدالآتی کے خاندان کا کہنا تھا کہ پیدائش کے وقت ان کا وزن پانچ کلو گرام تھا اور ان میں ایلیفنٹیاسس کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس بیماری میں بازو اور جسم کے دوسرے حصے انفیکشن کی وجہ سے پھول جاتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں