تین افریقی ملکوں میں ملیریا کے خلاف پہلی ویکسین متعارف کروائی جائے گی

ملیریا تصویر کے کاپی رائٹ D POLAND/PATH
Image caption ملیریا دنیا میں ہر سال 21 کروڑ لوگوں کو لاحق ہوتا ہے جن میں سے چار لاکھ 29 ہزار ہلاک ہو جاتے ہیں

ملیریا کے خلاف دنیا کی پہلی ویکسین تین افریقی ملکوں گھانا، کینیا اور ملاوی میں 2018 میں متعارف کروائی جائے گی۔

آر ٹی ایس ایس نامی یہ ویکسین انسان کے دفاعی نظام کی اس طرح سے تربیت کرتی ہے کہ وہ ملیریا کے جراثیم کے حملے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ یہ جراثیم مچھر کے کاٹنے سے انسان میں منتقل ہوتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ اس حفاظتی ٹیکے کی مدد سے دسیوں ہزار زندگیاں بچائی جا سکیں گی۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اسے دنیا کے غریب ترین ملکوں میں استعمال کرنا کس حد تک ممکن ہو گا۔

اس ویکسین کو چار بار دینے کی ضرورت ہے، پہلے تین ماہ تک ہر مہینے اور پھر چوتھی خوراک 18 ماہ بعد۔

یہ ویکسین تجربات میں بہت کامیاب رہی ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ حقیقی دنیا میں اس کے نتائج کیا نکلیں گے جہاں اکثر اوقات طبی سہولیات تک رسائی محدود ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت ابتدائی طور پر تین ملکوں میں اسے متعارف کروا رہا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ مکمل پروگرام کب شروع کیا جائے۔ اس کے بعد ویکسین کے موثر پن اور تحفظ کا جائزہ لیا جائے گا۔

عالمی ادارۂ صحت کے افریقہ کے لیے علاقائی ڈائریکٹر ماتشیدیسو موئتی نے کہا: 'ملیریا ویکسین کا تعارف بہت اہم خبر ہے۔ ابتدائی تجرباتی پروگرام سے حاصل ہونے والے معلومات سے ہمیں اس ویکسین کے وسیع پیمانے پر استعمال کے بارے میں مفید معلومات ملیں گی۔

'ملیریا کے لیے موجودہ علاج کے ساتھ اس ویکسین کو استعمال کر کے دسیوں ہزار زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔'

ابتدائی پروگرام میں پانچ سے 17 ماہ عمر کے ساڑھے سات لاکھ بچے شامل ہوں گے۔ ان میں سے نصف کو ویکسین دی جائے گی تاکہ اس کے موثر پن کا جائزہ لیا جا سکے۔

یہ معلوم ہے کہ اس عمر میں چار خوراکوں سے دس میں سے چار مریضوں میں ملیریا کو روکا جا سکتا ہے۔

یہ شرح دوسری ویکسینوں کے مقابلے پر کہیں کم ہے۔

ملیریا دنیا میں ہر سال 21 کروڑ لوگوں کو لاحق ہوتا ہے جن میں سے چار لاکھ 29 ہزار ہلاک ہو جاتے ہیں۔

زیادہ تر مریض افریقہ میں اس مرض کا نشانہ بنتے ہیں اور مرنے والوں کی بڑی تعداد بچوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں