پلاسٹک بیگ تلف کرنے میں مددگار سنڈی کی دریافت

کیٹرپلر تصویر کے کاپی رائٹ CÉSAR HERNÁNDEZ/CSIC
Image caption پتنگے کے یہ لاروے شہد کی مکھی کے چھتے کھا جاتے ہیں

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پلاسٹک بیگ کھانے والی سنڈی ان بیگز سے پیدا ہونے والی آلودگی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے محققین نے شہد کی مکھی کے چھتے سے موم کھانے والی ایک سنڈی دریافت کی ہے اور دعویٰ کیا ہے یہ سنڈی پلاسٹک بھی کھا سکتی ہے۔

تجربات سے یہ پتہ چلا ہے کہ یہ سنڈی پلاسٹک کی کیمیائی ساخت کو اسی طرح توڑ سکتی ہے جیسے وہ مکھی کے چھتے کو ہضم کر لیتی ہے۔

خیال رہے کہ ہر سال دنیا بھر میں آٹھ کروڑ ٹن پلاسٹک پولیتھلین بنائی جاتی ہے۔

اس پلاسٹک کا استعمال شاپنگ بیگز کی تیاری اور اشیائے خوردونوش کی پیکیجنگ میں ہوتی ہے لیکن ان کے مکمل طور پر گلنے اور سڑنے میں سینکڑوں سال لگ سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق 'گیلیریا مولونیلا' نامی سنڈی ایک گھنٹے میں ہی پلاسٹک میں سوراخ کرنے میں کامیاب ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ CSIC COMMUNICATIONS DEPARTMENT
Image caption تجربے میں پتہ چلا ہے کہ یہ یہ ایک گھنٹے میں پلاسٹک میں سوراخ کر سکتے ہیں

یونیورسٹی آف کیمبرج کے بايوكیمسٹ ڈاکٹر پاؤلو بومبیلی اس تحقیق سے منسلک ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'یہ نقطۂ آغاز ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اسے کس طرح انجام دیتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ پلاسٹک کے کوڑے کے مسئلے کو کم سے کم کرنے کے لیے کوئی تکنیکی حل ڈھونڈا جا سکے گا۔'

ڈاکٹر بومبیلی اور سپینش نیشنل ریسرچ کونسل کی فیڈریکا برٹوچینی نے اس دریافت کو پیٹنٹ کرایا ہے۔

ڈاکٹر برٹوچینی کا کہنا ہے کہ اگر پلاسٹک کو گلانے کے کیمیائي عمل کی شناخت ہو جاتی ہے تو اس سے پلاسٹک کے کوڑے سے نمٹنے کے عمل کی جانب رہنمائی مل سکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں