وکی پیڈیا کے بانی جمی ویلز کا نیوز سروس کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جمی ویلز کا کہنا ہے کہ ویب میڈیا جس ماڈل پر کام کر رہا ہے اس کا نتیجہ 'کلکس کا تعاقب' نکلتا ہے جس کی وجہ سے معیار متاثر ہوتا ہے

آن لائن انسائیکلوپیڈیا وکی پیڈیا کے شریک بانی جمی ویلز نے ایک ایسی نیوز سروس کے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے لیے پیشہ ور صحافی اور رضاکار دونوں کام کریں گے۔

اس سروس کا نام 'وکی ٹریبیون' رکھا گیا ہے اور اس کا مقصد 'حقائق پر مبنی غیر جانبدار' تحریروں کی فراہمی ہے تاکہ 'جعلی خبروں' کے مسئلے سے نمٹا جا سکے۔

جعلی خبریں کیسے پکڑی جائیں؟

جعلی خبروں سے نمٹنے کے لیے فیس بک کا نیا فیچر

ویب کے بانی کا انٹرنیٹ پر جعلی خبریں روکنے کا منصوبہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وکی ٹریبیون ایک معتبر ویب سائٹ بن جائے تاہم اس کا اثر محدود ہوگا۔

وکی ٹریبیون میں وکی پیڈیا کے بہت سے فیچرز شامل ہوں گے جیسا کہ مصنفین کو دی جانے والی معلومات کا منبع فراہم کرنا ہو گا اور عوام ان خبروں کو درست کرنے کے لیے ان کی تدوین کر سکیں گے۔

تاہم یہ تبدیلیاں صرف اسی صورت میں موثر ہوں گی جب وکی ٹریبیون کے عملے کا کوئی رکن یا معتبر رضا کار ان کی تصدیق کرے۔

بی بی سی نے اس نیوز ویب سائٹ کا جو ابتدائی ورژن دیکھا ہے اس پر کہا گیا ہے کہ 'خبر میں گڑبڑ ہے اور ہم اسے درست کر سکتے ہیں۔'

جمی ویلز کا کہنا ہے کہ ویب میڈیا جس ماڈل پر کام کر رہا ہے اس کا نتیجہ 'کلکس کا تعاقب' نکلتا ہے جس کی وجہ سے معیار متاثر ہوتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'ہم آج ایک ایسی دنیا میں ہوں جہاں عوام حقائق پر مبنی معیاری معلومات کے یقینی حصول کے بارے میں فکرمند ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں اس سروس کی طلب ہوگی۔'

تاہم ہارورڈ یونیورسٹی کی نیمن جرنلزم لیب کے ڈائریکٹر جوشوا بینٹن کا کہنا ہے کہ وکی ٹریبیون کا 'کراؤڈ فنڈڈ' ماڈل اس کے اثر کو کم کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یقیناً ایسے لوگ ہیں جو اگر یہ صحیح کام کریں تو اسے ایک معتبر پلیٹ فارم سمجھ سکتے ہیں۔ تاہم خبروں کا درستگی کا عمل دس سے بیس افراد کے بس کی بات نہیں ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں