’سیلفی انتخابی عمل کو آسان بنا سکتی ہے‘

Image caption 'سمارٹمیٹک' نامی کمپنی، جس نے اس ایپ کو تیار کیا ہے، کا دعوی ہے کہ یہ معمول کی آن لائن بینکنگ یا شاپنگ سے بھی زیادہ محفوظ نظام ہے

الیکشن سے متعلق ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے ایسی ایک نئی ایپ متعارف کروائی ہے جس سے لوگ سیلفی کی مدد سے اپنا ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

اس ایپ کا سافٹ ویئر چہرے کی شناخت کرکے پہلے لوگوں کو الیکشن کے لیے رجسٹر کرتا ہے اور پھر اسی عمل کے تحت انھیں آن لائن ووٹ ڈالنے کی اجازت دیتا ہے۔

'سمارٹ میٹک' نامی کمپنی، جس نے اس ایپ کو تیار کیا ہے، کا دعویٰ ہے کہ یہ معمول کی آن لائن بینکنگ یا شاپنگ سے بھی زیادہ محفوظ نظام ہے۔

تاہم برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ہر طرح کی نئی ٹیکنالوجی اپنانے کے لیے تو پر عزم ہے لیکن الیکشن میں پیپر بیلیٹ ہی محفوظ ترین نظام ہے۔

یہ ایپ ایک ڈیجیٹل شناخت تیار کرنے کے لیے چہرے کے بائيومیٹرک ڈیٹا کا استعمال کرتی ہے۔ اس عمل میں ایپ حکومت کی طرف جاری کردہ شناختی کارڈ سے مدد لیتی ہے، پھر کسی بھی مقام سے صارف سیلفی لے کر لاگ ان کر کے اپنا ووٹ ڈال سکتا ہے۔

Image caption اس ایپ کے ذریعے کسی بھی مقام سے صارف سیلفی لے کر لاگ ان کر کے اپنا ووٹ ڈال سکتا ہے

سمارٹ میٹک کمپنی میں پروگرام مینیجر مائک سمر نے بی بی سی کے پروگرام نیوز بیٹ کو بتایا کہ یہ ایپ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو الیکشن کے عمل میں حصہ لینے کے لیے حوصلہ دسے سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا: 'امکانات بہت ہیں، ہم اس میں زبردست دلچسپی دیکھ رہے ہیں۔'

انھوں نے مزید کہا: 'چونکہ آج کل لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ اکثر منتقل ہی ہوتے رہتے ہیں اس لیے الیکشن میں ان کی شرکت بہت کم ہوگئی ہے، تو ہم اس عمل کو مضبوط کرنے اور اس تک رسائی کو مزید آسان کرنے کا ایک موقع دیکھ رہے ہیں۔'

الیکشن میں اپنی پسند کا نمائندہ منتخب کرنے کی غرض سے ووٹنگ کے لیے پیپر بیلٹ کا استعمال سنہ 1872 سے رائج ہے۔

تاہم کارکنان کا کہنا ہے کہ آن لائن ووٹنگ جہاں زیادہ آسان ہے وہیں یہ سیاست دانوں کو بھی زیادہ جوابدہ بھی بنا سکتی ہے۔

ڈیجیٹل ڈیموکریسی نامی معروف ادارے کے سربراہ عریق چودہری کا کہنا ہے کہ یہ نوجوانوں کا اثرو رسوخ بڑھانے میں معاون ہو سکتا ہے۔

لیکن سائیبر سکیورٹی بھی باعث تشویش ہے اسی لیے بہت سے ملک ووٹنگ کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیچھے ہٹتے جا رہے ہیں۔

فرانس نے تو موجودہ صدارتی انتخابات میں بیرون ملک رہنے والے افراد کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کو معطل کر دیا۔

ہالینڈ میں بھی، جہاں بیلٹ پیپرز کو الیکٹرکلی سکین کیا جا تا ہے، ووٹوں کی گنتی کا عمل ہاتھوں سے ہی کیا جاتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں