’ٹران ایگزامک ایسڈ سے پاکستان میں دورانِ زچگی شرح اموات میں 20 فیصد کمی’

ہسپتال
Image caption ہولی فیملی ہسپتال میںں ہر سال بیس ہزار بچے پیدا ہورہے ہیں

راولپنڈی کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں برطانوی دور کی سرخ اینٹوں کی عمارت ہولی فیملی ہسپتال ہے جہاں ہر سال 20 ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں۔

اس ہسپتال کو تقسیمِ ہند سے پہلے عیسائی راہبوں نے تعمیر کیا تھا اور یہیں ایک وارڈ میں میری ملاقات شبانہ نوشین سے ہوئی۔

* زندگی بچانے والی دوا جسے دنیا بھول گئی تھی

شبانہ نوشین کا تعلق پنڈ دادنخان سے ہے۔ ایک ہفتہ پہلے وہ ایک بچی کی ماں بنیں تاہم زچگی کے عمل کے دوران زیادہ خون بہہ جانے کے باعث وہ مرتے مرتے بچیں۔

’مجھے کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میں ختم ہو جاؤں گی۔ میرا خون بہت زیادہ بہہ گیا تھا اور میرے شوہر کو خون کا بندوبست کرنے کے لیے بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ پیسے دے کر بھی خون نہیں مل رہا تھا۔‘

آمنہ رفیق اور ان کے شوہر دونوں ہی ڈاکٹر ہیں۔ سنہ 2012 میں اپنے بیٹے موسیٰ کی پیدائش کے دوران انھیں پہلے سے ہی معلوم تھا کہ انھیں پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن صورتحال اتنی خطرناک ہو جائے گی اس کا اندازہ نہیں تھا۔

’مجھے پتہ تھا کہ سب کچھ کیا ہونے والا ہے لیکن میں نے اور میرے شوہر نے کبھی اس حوالے سے زیادہ بات چیت نہیں کی اور ہم خود کو اس صورتحال کے لیے تیار نہیں کر سکے۔‘

Image caption سنہ 2010 میں مختلف ملکوں میں زچگی کے دوران ماؤں کی اموات کی شرح کم کرنے کے لیے وومن ٹرائل کے نام سے تجربہ شروع کیا گیا

ڈاکٹر آمنہ کے ساتھ بھی وہی ہوا جس کا سامنا شبانہ نوشین کو کرنا پڑا۔ یعنی ان کی جان بچانے کے لیے ان کی بچہ دانی نکالنی پڑی۔ ڈاکٹر آمنہ کا کہنا ہے زندہ بچ جانے کے باوجود بچہ دانی کھو دینا خواتین کے لیے کسی المیے سے کم نہیں۔

’خاص طور پر وہ خواتین جو دیہات سے آتی ہیں اور انھیں خاندان کا تعاون حاصل نہیں ہوتا۔ اگر پہلے ان کے بچے ہوں بھی تو ان کے شوہر اس لیے دوسری شادی کرنے نکل پڑتے ہیں کہ بیوی کی بچہ دانی نہیں ہے اور بہت سی خواتین تو خود بھی یہی سمجھتی ہیں کہ بچہ دانی کے بغیر وہ مکمل عورت نہیں۔‘

دنیا بھر میں ہر سال ایک لاکھ عورتیں دوران زچگی زیادہ خون بہہ جانے سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ملکوں میں ہوتا ہے جہاں دوران زچگی ماؤں کی اموات کی شرح انتہائی زیادہ ہے اور اس کا سب سے بڑا سبب بھی بچوں کی پیدائش کے دوران خون کا زیادہ بہہ جانا ہے۔

سنہ 2010 میں مختلف ملکوں میں زچگی کے دوران ماؤں کی اموات کی شرح کم کرنے کے لیے وومن ٹرائل کے نام سے ایک تجربہ شروع کیا گیا ور راولپنڈی کے ہولی فیملی سمیت ملک کے 43 ہسپتال اس تجربے کا حصہ بنے۔

اس تجربے کے دوران بچوں کی پیدائش کے عمل میں خون کے زیادہ بہاؤ کو روکنے کے لیے ٹران ایگزامک ایسڈ کو استعمال کیا گیا۔

Image caption دنیا بھر میں ہر سال ایک لاکھ عورتیں دوران زچگی زیادہ خون بہہ جانے سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں

ٹران ایگزامک ایسڈ سنہ 1960 میں جاپان میں بنایا گیا تھا اور یہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں حادثات میں زخمی ہو جانے والے افراد کے علاج میں تو استعمال کیا جا رہا تھا لیکن اسے کبھی بھی زچگی کے دوران ماؤں میں خون کے زیادہ بہاؤ کو روکنے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

ہولی فیملی میں گائنی کے شعبے کی سربراہ اور پاکستان میں وومن ٹرائل کی رابطہ کار ڈاکٹر رضوانہ کہتی ہیں ’ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ کس خاتون کو ٹران ایگزامک ایسڈ ملا اور کس کو نہیں تاکہ اس تجربے کے نتائج بالکل بےلاگ ہوں اور جب بعد میں نتائج دیکھے تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں اس سے خون زیادہ بہہ جانے سے ہونے والی اموات میں 20 فیصد کمی ہوئی تھی۔ ہمیں ان نتائج سے بہت حوصلہ ملا۔‘

وومن ٹرائل دنیا کے 21 ممالک میں کیا گیا جس میں 20 ہزار خواتین کو یہ دوا دی گئی۔

ماہرین وومن ٹرائل کے نام سے کیے گئے اس تجربے کے نتائج کو دوران زچگی ہلاکتوں کو کم کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں