’قابل اعتراض ویب سائٹس پر انڈین بچوں کی بڑھتی تعداد‘

'قابل اعتراز ویب سائٹس پر انڈین بچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔' تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کمپیوٹر سافٹ وئیر بنانے والی کمپنی میکیفی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ’قابل اعتراض‘ ویب سائٹس پر امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کے مقابلے میں انڈین بچوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

حالانکہ 36 فیصد صارفین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں پر انٹرنیٹ کے حوالے سے نظر رکھتے ہیں اور اس کے لیے سافٹ وئیر کا استعمال کرتے ہیں۔

اس سروے میں شامل آدھے سے زیادہ انڈین والدین نے بتایا کہ ان کے بچے نامناسب ویب سائٹس پر جاتے ہیں۔ اس معاملے میں انڈین بچے 13دیگر ممالک سے آگے ہیں۔

انٹرنیٹ پر ’بچے خطرے میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بچے ٹیکنالوجی سے بہت متاثر ہو رہے ہیں۔

26 فیصد آسٹریلوی بچے، 45فیصد برازیلین، 41 فیصد فرانسیسی، 37 فیصد امریکی اور 23 فیصد برطانوی بچے نامناسب ویب سائٹس پر جاتے ہیں۔

اس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 84 فیصد انڈین والدین اپنے بچوں کو انٹرنیٹ والے سمارٹ فونز کے ساتھ سونے کی اجازت دیتے ہیں۔ حالانکہ 50 فیصد انڈین والدین نے اس بارے میں اپنے بچوں سے بحث بھی کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چوراسی فیصد انڈین والدین اپنے بچوں کو انٹرنیٹ والے سمارٹ فونز کے ساتھ سونے کی اجازت دیتے ہیں۔

جو بچے آن لائن بات چیت یا چیٹ کرتے ہیں ان کے لیے یہ تشویش ناک ہے۔ 57 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ ہر دن ایک سے دو گھنٹے اپنے بچوں کو انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی 21 فیصد والدین نے یہ کہا کہ انھوں نے ہر دن ایک گھنٹے سے کم انٹرنیٹ استعمال کرنے کی حد مقرر کر رکھی ہے۔

میکیفی کے جنوبی ایشیا کے مینیجنگ ڈائریکٹر آنند رام مورتی کا کہنا ہے کہ ’ہر طرف سے جڑی دنیا میں والدین اپنے بچوں کے ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے طریقے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انھیں سمجھنا چاہیے کہ ان کے بچے ٹیکنالوجی سے کس قدر متاثر ہو رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ والدین کو گھر میں انٹرنیٹ والے آلات پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ بچوں کی حفاظت کو اور ان کی ذاتی معلومات کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس سروے میں آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، فرانس، جرمنی، انڈیا، اٹلی، میکسیکو، ہالینڈ، سنگاپور، سپین، برطانیہ اور امریکہ سے 13 ہزار ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں