'اب سمارٹ فون آپ کی شوگر کو کنٹرول کرے گا'

چوہے تصویر کے کاپی رائٹ J SHAO
Image caption چوہے پر کی جانے والی تحقیق میں شوگر لیول کو سمارٹ فون کے ذریعے کامیابی سے کنٹرول کیا گیا ہے

سائنسدانوں نے چوہوں میں زندہ خلیوں کے حرکات سکنات کو کنٹرول کرنے کے لیے سمارٹ فون کا استعمال کیا ہے۔

حیاتیات اور ٹیکنالوجی کے مرکب کا استعمال ذیابیطس سے متاثرہ چوہوں کے خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا گيا۔

'سائنس ٹرانسلیشن میڈیسن' نامی جریدے میں یہ تحقیق شائع ہوئی ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طریقے کا بہت سی بیماریوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔

٭ پسینے سے ذیابیطس کی جانچ کے لیے سینسر

چینی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے طب میں 'ایک نئے عہد کا راستہ کھل سکتا ہے۔'

اس میں عام خلیوں میں جینیاتی طور پر تبدیلیاں کی گئیں ہیں تاکہ ایسی دوا بنائی جا سکے جو انسولین کی طرح خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرتی ہے اور یہ مخصوص روشنی کے جواب میں ہی ایسا کرتی ہے۔

اس طریقۂ کار کو 'آپٹو جینینٹکس' کہا گیا ہے اور یہ خیلے اسی وقت حرکت میں آئیں گے جب یہ سرخ روشنی کی مخصوص شعاعوں کے روبرو ہوں۔

اس کے بعد ٹیکنالوجی حرکت میں آتی ہے جس میں بغیر کسی تار کے توانائی والے ایل ای ڈی کے سیٹ کو سمارٹ فون ایپ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ J SHAO
Image caption سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ دیکھنے میں وقت لگے کا کہ لوگ اپنے اندر امپلانٹ سیل کو کنٹرول کرنے کے لیے فیشن والے رسٹ بینڈ وغیرہ پہنے ہوئے دکھائی دیں گے

شنگھائی میں قائم ایسٹ چائنا نورمل یونیورسٹی میں محققین نے اس قسم کے ایک نظام کو چوہوں میں امپلانٹ کیا اور وہ چوہوں میں ذیابیطس کو ٹچ سکرین کے ذریعے کنٹرول کرنے میں کامیاب رہے۔

تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے طب کی دنیا میں مخصوص ذاتی ڈیجیٹل اور عالمی طریقہ علاج کے نئے عہد کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔

سائنسدانوں کو خون کے ذرہ برابر قطرے درکار تھے تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ خون میں شکر یا شوگر کی سطح کیا ہے تاکہ وہ اس کے حساب سے جانور کے اندر دوا کی مقدار چھوڑ سکیں۔

ان کا حتی ہدف ایک ایسے نظام کو سرگرم عمل کرنا ہے جس کے تحت خون میں شوگر کی سطح کا پتہ چلتا رہے اور اس حساب سے دوا کی مقدار خودکار طریقے سے جسم میں جاتی رہے۔

یہ خیال ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے لیکن یہ صرف ذیابیطس تک محدود نہیں۔ خلیوں میں دخل دے کر اسے مختلف قسم کی ادویات کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔

ویومنگ یونیورسٹی کے پروفیسر مارک گوملسکی کا کہ 'یہ تحقیق دلچسپ کارنامہ ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں