دبئی اپنا فونٹ حاصل کرنے والا پہلا شہر

دوبئی تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty

دنیا کی سب سے اونچی عمارت اور سب سے بڑے شاپنگ سینٹر کے حامل شہر دبئی نے اپنا مائیکرو سافٹ فونٹ بنا لیا ہے۔

یہ نیا فونٹ ٹائپ فیس ہے جسےمائیکروسافٹ کمپنی نے تیار کیا ہے اور یہ عربی اور لاطینی سکرپٹ میں ہے اور 23 زبانوں میں دستیاب ہو گا۔

٭سمارٹ فون اتنا سمارٹ کیسے بنا؟

٭اردو کی پہلی آن لائن آڈیو لائبریری

حکومتی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ سرکاری نمائندوں سے کہیں کہ وہ اسے استعمال کریں۔

دبئی کے شہزادے ہمدان بن محمد المختوم نے کہا ہے کہ اس فونٹ کی تیاری کے تمام مراحل میں انھوں نے بذاتِ خود حصہ لیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ 'ڈیجیٹل دنیا میں صفِ اول آنے کے لیے ہماری مسلسل کوششوں کے سلسلے میں یہ ایک اہم قدم ہے۔'

'ہم پراعتماد ہیں کہ یہ نیا فونٹ اور اس کی امتیازی صفات دنیا بھر میں آن لائن اور سمارٹ ٹیکنالوجیز میں استعمال ہونے والے رسم الخط میں معروف ثابت ہوگا۔'

ادھر دبئی کے حکام کا کہنا ہے کہ ٹائپ فیس کا ڈیزائن جدت کا عکاس ہے اور یہ لاطینی اور عربی دونوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

ٹائپ فیس کے تعارف سے متعلق ایک آن لائن اشتہار میں کہا گیا ہے۔ اپنی رائے کا اظہار آرٹ کی ایک قسم ہے۔

اگرچہ یہ آپ ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ آپ کیا ہیں، کیا سوچتے ہیں اور دنیا کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے آپ کو ایک ذریعے کی ضرورت ہوتی ہے جو اس سب کو بیان کر سکے جو آپ کو کہنا ہے۔

'دبئی فونٹ بالکل ویسا ہی کرتا ہے۔ یہ ذاتی اظہار کے لیے ایک نیا عالمی میڈیم ہے۔'

لیکن متحدہ عرب امارات جس کا دبئی حصہ ہے کو آزادانہ اظہار پر پابندیوں کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

قانون اظہارِ رائے کی آزادی کا ضامن ہے تاہم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس نئے سافٹ ویئر سے شہریوں کی روزمرہ زندگی میں کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اور اس ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، لوگوں کی گرفتاریوں اور اختلاف رکھنے والوں کی آوازوں کو بند کرنے کا سلسلہ دیکھا گیا ہے۔

رواں برس مارچ میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک اہم شخصیت احمد منصور کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ یہ پرامن احتجاج کرنے والوں کے لیے مکمل طور پر عدم برداشت کا برتاؤ تھا۔

متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ڈبلیو اے ایم کا کہنا ہے کہ احمد منصور کو اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر فرقہ واریت اور نفرت پھیلانے کے لیے غلط معلومات اور جھوٹی خبریں چھاپتے تھے۔ اور ریاست کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے تھے۔

متعلقہ عنوانات

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں