سائنسدانوں نے چائے کے پودے کا راز معلوم کر لیا

چائے کا پودا تصویر کے کاپی رائٹ LIZHI GAO
Image caption ہر قسم کی چائے کامیلیا سائنیسز نامی پودے کے پتوں سے بنتی ہے۔

نباتات کے ماہرین نے چائے کے پودے کا جنیاتی راز معلوم کر لیا ہے۔

چین میں ماہرین نے کامیلیا سائنیسز نامی اس پودے کا جنیاتی کوڈ معلوم کیا ہے جس کے پتے کالی، سبز اور گہرے رنگ کی چائے بنانے میں کام آتے ہیں۔

٭چائے، زندگی کی لہر

٭کافی ہم تک کیسے پہنچی؟

محققین نے یہ جائزہ لیا ہے کہ کون سے کیمیکلز چائے کو ذائقہ دیتے ہیں۔

چائے کے پودے کی ثقافتی اور معاشی اہمیت کے باوجود اب تک اس کی جنیات کے بارے میں بہت کم آگاہی حاصل ہوئی تھی۔

چین کے کومنگ انسٹیٹیوٹ آف بوٹنی سے وابستہ لزہی گاؤ چائے کے پودے کے بارے میں کہتے ہیں کہ 'اس کے مختلف ذائقے ہیں لیکن یہ معمہ ہے کہ چائے کے پھول کی جنیات کی بنیاد کس پر ہے۔'

کامیلیا نامی چائے ے پودوں کے گروہ کی 100 اقسام ہیں۔ ان میں باغ میں لگنے والا اس کا خوشنما پودا بھی شامل ہے۔ لیکن کامیلا سائنیسز کی کاشت کاروبار کے لیے کی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چائے کے پودے میں بڑی مقدار میں کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جو اسے ایک خاص ذائقہ دیتے ہیں۔ اس میں کیفین اور فلیوو نائڈذ شامل ہوتے ہیں۔

کامیلیا کی قسم سے تعلق رکھنے والے دیگر پودوں میں بھی یہ کیمیکلز موجود ہوتے ہیں تاہم ان کی مقدار نسبتاً کم ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ YONG SHENG YI
Image caption ایک محقق ریسرچ کے لیے چائے کے پودے کے پتے چنتے ہوئے۔

ڈاکٹر مونیک سیمنڈز برطانیہ کے کیو رائل بوٹینک گارڈن سے منسلک ہیں۔ وہ تحقیق میں شامل نہیں تھیں تاہم ان کا کہنا ہےکہ اس تحقیق نے چائے کے جنیاتی بلڈنگ بلاک کی تفصیل فراہم کی ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ اس مطالعے سے مجموعی طور پر نہ صرف ان لوگوں کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے جو چائے کا پودا کاشت کرتے ہیں بلکہ اس سے انھیں بھی فائدہ پہنچے گا جو دوائیاں بنانے اور میک آپ کا سامان تیار کرنے کے لیے بہت سے پودوں کو اگاتے ہیں۔ چائے کے اندر موجود مرکبات اکثر کاسمیکٹس اور دوائیوں کے پودوں کی حیاتیاتی خصوصیات سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔'

چائے کے پودے کی ڈی کوڈنگ کے عمل میں پانچ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے۔

چائے کے پودے میں تین ارب ڈی این اے کے جوڑے ہیں۔ اور اس میں جین سمیت کروموسومز کے جوڑوں یعنی جینوم کا سائز کافی کے پودے میں موجود جینوم سے چار گنا بڑا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ CHAOSHI
Image caption اب تک 50 قسم کے پودوں کا جنیاتی کوڈ معلوم ہوچکا ہے۔

پروفیسر گاؤ جنھوں نے 20 سے مزید پودوں کے جینوم کی ترتیب میں جنوبی کوریا اور امریکہ کے سائنس دانوں کے ساتھ کام کیا تھا، کا کہنا ہے کہ چائے کے پودے کا جینوم بہت پیچیدہ ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ جنیاتی معلومات سے چائے کے پودے کی منتخب بنیادوں پر کی جانے والی کاشت کاری سے اس کی کوالٹی اور قیمت میں بہتری آئے گی۔

خیال رہے کہ کامیلیا سائنیسز سے چھ قسم کی چائے بنتی ہے۔ اس میں سفید، زرد، سبز، کالی اور گہرے رنگ کی چائے شامل ہے۔ ان سب کا اپنا ذائقہ اور خوشبو ہوتی ہے۔ اور اس فرق کی وجہ اس کی مختلف کیمیائی بناوٹ ہوتی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ 15 برس سے زائد عرصے پہلے پودے جس کی ڈی این اے کی ترتیب کے بارے میں جانا گیا تھا۔ اس وقت سے اب تک 50 قسم کے پودوں کی ترتیب کے بارے میں جانا جا چکا ہے ان میں غدائی اجناس جن میں کیلا، آلو اور ٹماٹر وغیرہ شامل ہیں۔

یہ تحقیق مالیکیولر پلانٹ نامی جنرل میں شائع ہوئی ہے۔

.

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں