سورج کی روشنی سے زیادہ بجلی کے حصول کی کوششوں کی کہانی

تصویر کے کاپی رائٹ Urvashi Bachani
Image caption شمسی توانائی سے بجلی حاصل کرنا رمیشورلال چوہدری کے خاندان کے لیے اچھا ثابت ہوا ہے

انڈیا نے حال ہی میں دنیا کے سب سے بڑے شمسی توانائی کے فارم کا افتتاح کیا جس کی مدد سے ملک میں شمسی توانائی کے استعمال کی صلاحیتوں میں تین سال میں چار گنا اضافہ ممکن ہوا ہے اور اس کی مدد سے ملک بھر میں لاکھوں گھروں تک بجلی پہنچ سکی ہے۔

لیکن اس کے علاوہ انڈیا میں ایسا اور کیا ہو سکتا ہے جس کی مدد سے وہ زمین سے نکلنے والے ایندھن کا استعمال مکمل طور پر ترک کر دیں؟

45 سالہ کسان رمیشور لال چوہدری اور ان کی بیوی داکھا اپنے دو بچوں کے ساتھ راجستھان کے سولاواتا نامی گاؤں میں رہائش پزیر ہیں۔

ٹیسلا کی مکانات کے لیے شمسی توانائی کی ٹائلز

ان کے کچے مکان پر ٹین کی چھت ہے اور گھر کی ایک دیوار مکمل طور پر غائب ہے جس کی وجہ سے وہ برے موسمی حالات میں کچھ نہیں کر سکتے۔ چھ ماہ قبل رمیشور لال انڈیا کی 44 فیصد دیہاتی آبادی کا حصہ تھے جن کے گھروں میں بجلی کی فراہمی کا انتظام نہیں تھا۔

لیکن اب 40 واٹ کی طاقت والے شمسی توانائی کے پینل ان کے گھر کے باہر درخت کی شاخ پر لگے ہوئے ہیں جن کی مدد سے رمیشور لال اپنے گھر میں تین بلب جلا سکتے ہیں۔

ان کی 17 سالہ بیٹی پوجا نے کہا کہ اب 'رات میں بھی روشنی ہونے کی وجہ میں رات دس بجے تک پڑھائی کر سکتی ہوں۔'

رمیشور لال کے بیٹے رمجی لال نے کہا کہ 'روشنی ہونے کی وجہ سے سانپ، چوہے اور بچھو وغیرہ بھی دور رہتے ہیں۔'

رمیشور لال کے گھر میں آنے والی بہتری ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ کس طرح انڈیا میں شمسی توانائی کا استعمال غریب عوام کے لیے بڑی تبدیلی کا باعث بن رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Adani Group
Image caption انڈیا کی ریاست تمل ناڈو میں کموٹھی کے مقام پر دنیا کا سب سے بڑا شمسی توانائی کا فارم

پچھلے سال نومبر میں انڈیا نے ریاست تمل ناڈو میں کموٹھی کے مقام پر دنیا کا سب سے بڑا شمسی توانائی کا فارم شروع کیا۔ 2500 ایکڑ پر پھیلے ہوئے اس سولر فارم میں شمسی توانائی سے بجلی بنانے کے لیے پچیس لاکھ مخصوص پرزے لگے ہوئے ہیں جن کی صفائی کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے روبوٹس کی ٹیم معمور کی گئی ہے۔

انڈیا نے گذشتہ تین سالوں میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیتوں میں چار گنا اضافہ کیا ہے جس کے بعد اب ملک بھر میں 12 گیگا واٹ کی بجلی شمسی توانائی سے پیدا ہوتی ہے۔ خیال رہے کہ ایک گیگا واٹ سے سوا سات لاکھ گھروں میں بجلی پہنچائی جا سکتی ہے۔

حکومت کا ارادہ ہے کہ اس سال مزید دس گیگا واٹ کی بجلی شمسی توانائی سے حاصل کی جائے گی جبکہ مستقبل میں منصوبہ ہے کہ مزید 20 گیگا واٹ بجلی شمسی توانائی سے حاصل کی جائیگی۔

2010 تک پوری دنیا میں صرف 50 گیگا واٹ بجلی شمسی توانائی سے حاصل کی جا رہی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی پر اتنی تیزی سے انحصار بڑھنے کی وجہ ٹیکنالوجی کی قیمت میں کمی ہے لیکن دوسری جانب شمسی توانائی کو بنانے کی ٹیکنالوجی میں بھی کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

شمسی توانائی بنانے کے لیے استعمال کیے جانے والے سولر پینلز اتنے موثر نہیں ہیں۔ ان کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ سورج سے نکلنے والی 35 فیصد شعاعوں کو سولر پینلز جذب کرنے کے بجائے ضائع کر دیتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں شمسی توانائی کے حصول کا بہتر طریقہ کیا ہے؟

یورپی ملک فن لینڈ میں محقیقین کے مطابق قدرتی طور پر موجود چیزوں کی مدد سے سولر پینل کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

فن لینڈ کے اولو یونی ورسٹی کی ٹیم پتوں کی ساخت پر تحقیق کر رہی ہے اور اب تک وہ 32 مختلف طرح کے پتوں کی جانچ کر چکے ہیں کہ وہ کس طرح سورج کی روشنی بہتر انداز میں جذب کرتے ہیں۔

ٹیم کے رکن پروفیسر مارک ہوٹولا کے مطابق'بھٹے کا پتہ روشنی جذب کرنے کے لیے سب سے اچھا ہے۔'

اپنی تحقیق کی روشنی میں مارک ہوٹولا اور ان کے ساتھی محقق وئی کاؤ نے ایک ایسا مادہ تخلیق کیا ہے جسے سلیکون کے اوپر لگایا جا سکتا ہے۔

'نانو ڈاٹ' نامی اس مادے کی مدد سے سولر پینل میں روشنی جذب کرنے کی صلاحیت میں واضح اضافہ نظر آیا ہے اور 35 فیصد کے بجائے صرف 12 فیصد روشنی ضائع ہوتی ہے۔

اب یہ دونوں محقق چین کے ساتھ ملک کر اس ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ University of Warwick
Image caption واروک یونی ورسٹی میں شمسی توانائی کے حصول کے لیے پروسکائیٹ نامی ٹیکنالوجی پر کام ہو رہا ہے

لیکن واروک یونی ورسٹی کے پروفیسر راس ہیٹن کے مطابق سولر پینل کی گرتی ہوئی قیمت کے باوجود شمسی توانائی کو زمینی ایندھن کا نعم البدل بننے میں بہت وقت لگے گے۔

مارکیٹ میں موجود سولر سیل سورج کی شعاعوں سے ملنے والی توانائی کا صرف 16 سے 20 فیصد حصہ بجلی میں تبدیل کر پاتے ہیں۔

سیمی کنڈکٹر کی ٹیکنالوجی پر مبنی سولر سیل جن کو پروسکائیٹ کہا جاتا ہے، بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بڑھا کر 30 فیصد تک لے جا سکتے ہیں لیکن پروسکائیٹ کی ایک خرابی یہ ہے کہ وہ نمی والے علاقے میں جلد خراب ہو جاتے ہیں۔

شمسی توانائی کے عام استعمال میں ایک اور رکاوٹ یہ ہے کہ عام لوگوں کے گھروں میں اس کو لگانا ایک پیچیدہ مرحلہ ہوتا ہے اور کئی لوگوں کے نزدیک اس کی بھدی شکل گھروں کی خوبصورتی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ان رکاوٹوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹیسلا کمپنی کے مالک ایلون مسک نے نئی شکل کے سولر پینل متعارف کرائے ہیں جن کی شکل اینٹ جیسی ہے۔

لیکن شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی کی گرتی ہوئی قیمت اور سولر پینلز اور سولر سیلز کی بہتر ہوتی ہوئی کارکردگی کی بنا پر یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ توانائی حاصل کرنے کا یہ ذریعہ مزید فروغ پا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں