کیا ہاکا رقص نسیان سے بچانے میں مدد کرتا ہے

نیوزی لینڈ تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/Te Matini Society Incorporated

نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ کی یونیورسٹی میں محققین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا گیتوں اور رقص پر مبنی پرفارمنس (کاپاہاکا) ملک کے قدیمی ماوری باشندوں کو نسیان سے بچانے میں مدد کرتی ہے یا نہیں۔

'نیوزی لینڈ ہیرلڈ' کے مطابق وزارتِ صحت کی ایک تحقیق ان عوامل پر غور کر رہی ہے کہ لمبی عمر پانے والے قدیمی باشندوں میں نسیان زیادہ تھا یا ان میں جو قدیمی نہیں تھے حالانکہ ان کی صحت کو لاحق خطرات زیادہ تھے، ان کی طبی سہولت تک رسائی کم تھی، سماجی حالات زیادہ اچھے نہیں تھے اور ان میں سگریٹ نوشی اور دل کے امراض زیادہ ہونے کا خطرہ زیادہ تھا۔

لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ 80 اور 90 سال کے 900 افراد پر تحقیق کے بعد انھیں دونوں انواع میں کوئی زیادہ فرق نہیں ملا۔

محققین کے مطابق اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ لوگ دو زبانیں بولتے تھے یعنی ٹی رئیو اور انگریزی۔ اس وجہ سے ثقافتی سرگرمیوں میں ان لوگوں کی شمولیت زیادہ تھی۔

لمبی عمر پانے والے ماوری افراد کا، کاپاہاکا کے ساتھ ساتھ عمومی سطح سے آگے کے عقلی مشاغل میں ایک واضح کردار ہے۔

تحقیق کے مطاق ثقافتی سرگرمیاں ذہن کو زیادہ مہمیز کر دیتی ہیں جس سے ذہنی صلاحیتیں محفوظ ہوتی ہیں۔

کاپاہاکا رقص اور گانوں کی عملی پرفارمنس ہے۔ اس عمل کی کئی حرکات پیچیدہ ہوتی ہیں اور صرف آپس میں بہتر رابطے سے ہی مکمل ہو سکتی ہیں۔

اس کا تعلق عموماً سکولوں سے یا پھر خاندان اور قبیلے سے جڑا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں قومی سطح پر منعقد ہوتے ہیں جن میں بالغ افراد حصہ لیتے ہیں۔