ایورسٹ ڈائری: ’روز خیمے سے صبح سویرے آسمان دیکھتا ہوں‘

ایورسٹ ڈائری تصویر کے کاپی رائٹ Sa'ad Mohamed

پاکستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان کوہ پیما سعد محمد دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی مہم پر روانہ ہوئے ہیں۔ اگر وہ یہ چوٹی سر کرنے میں کامیاب رہے تو وہ یہ کارنامہ سرانجام دینے والے چوتھے پاکستانی ہوں گے۔ سعد اس سفر کے دوران بی بی سی اردو کے لیے تصویری و تحریر ڈائری کی شکل میں اپنے تجربات شیئر کریں گے۔ ایورسٹ ڈائری کی تیسری قسط پیش خدمت ہے

جب ہم لوگ ایورسٹ بیس کیمپ پہنچے تو امید یہی تھی کہ ایک آدھ ہفتے میں یہاں کے عادی ہو جائیں گے اور پھر پہاڑ پر مہم جوئی شروع ہو جائے گی۔ لیکن اوپر کے کیمپوں کے پہلے ہی چکر کے بعد موسم ایسا خراب ہوا کہ پھر مڑ کر پہاڑ کا رخ نہ کر سکے۔ خیر بیس کیمپ اتنی بھی بری جگہ نہیں۔ یہاں لگ بھگ ڈھائی ہزار افراد مقیم ہیں جن میں سے تقریباً 800 کوہ پیما ہیں باقی ان کا مددگار عملہ اور شرپا ہیں۔

ایورسٹ ڈائری: کھمبو گلیشیئر پر

ایورسٹ بیس کیمپ کے راستے میں:ویڈیو

ایورسٹ ڈائری: بیس کیمپ سے تین دن دور

ایورسٹ ڈائری تصویر کے کاپی رائٹ Sa'ad Mohamed

2500 افراد کو رہنے کے لیے ایک مناسب گاؤں جتنی جگہ درکار ہوتی ہے۔

ایورسٹ بیس کیمپ کی ایک جانب سے چلیں تو پورے کیمپ کو عبور کرنے کے لیے ایک گھنٹا لگ جاتا ہے۔

ایک تصویر میں پورا کیمپ دکھا پانا ممکن بھی نہیں، بس تقریباً 20 فیصد خیمے ہی دکھائی دیتے ہیں۔

ایورسٹ ڈائری تصویر کے کاپی رائٹ Sa'ad Mohamed

بیس کیمپ پر موسم بہت تیزی سے بدلتا ہے۔

کبھی دھوپ اتنی تیز ہوتی ہے کہ خیمے کے اندر بیٹھنا محال ہو جاتا ہے اور کبھی یکدم بادل آسمان پر چھا جاتے ہیں اور برفباری شروع ہو جاتی ہے۔

بادلوں کی آنکھ مچولی اور تیز ہوائیں یہاں معمول کی بات ہے۔

سعد محمد تصویر کے کاپی رائٹ Sa'ad Mohamed

دن میں اگر موسم صاف ہو تو دھوپ کی شدت سے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ ایسے میں دھوپ کے معیاری چشمے کام آتے ہیں۔

دھوپ جتنی مرضی تیز ہو، سردی کی شدت میں کمی نہیں ہوتی اور سر سے پاؤں تک گرم لباس پہنے رکھنا لازمی ہے۔

ایورسٹ ڈائری تصویر کے کاپی رائٹ Sa'ad Mohamed

یوں تو روز خیمے سے صبح سویرے آسمان دیکھتا ہوں لیکن آج آسمان کا رنگ کچھ عجیب سا سرخی مائل تھا۔

جلدی سے کیمرہ لے کر نکلا تو اس کی بیٹری جواب دے چکی تھی۔ بیٹری نکال کر ہاتھوں میں دبا کر گرم کی اور لینز کی جانب دیکھا تو اس پر کہرا جم چکا تھا۔

اب اسے کپڑے سے رگڑ رگڑ کر صاف کیا اور جلدی جلدی اس سرخی مائل آسمان کو کیمرے میں محفوظ کیا۔

ایورسٹ ڈائری تصویر کے کاپی رائٹ Sa'ad Mohamed

وہ رات شاید چودھویں کے چاند کی تھی۔ بیس کیمپ اور اس کے اردگرد سب کچھ روشن تھا۔

ایسے میں مجھے سب سے نمایاں چیز ہمسایوں کا میس ٹینٹ لگا اور اس کے پیچھے یہ گمنام سی چوٹی چاندنی میں اور بھی ہیبت ناک نظر آنے لگی۔

ایورسٹ ڈائری تصویر کے کاپی رائٹ Saad Mohammad

بیس کیمپ پر لگا خیمہ اندر سے کچھ یوں دکھائی دیتا ہے۔

کمرہ صاف رکھنے والے افراد سے معذرت مگر خیمے میں کچھ ایسے ہی حالات ہوتے ہیں۔

کچھ سامان فرش پر تو کچھ خیمے کی جیبوں میں بھرا ہے۔ حتیٰ کہ چھت سے جی پی ایس اور دستانے لٹکے ہیں۔

ایورسٹ ڈائری تصویر کے کاپی رائٹ Saad Mohammad

کچن کا خیمہ بالکل الگ تھلگ ہوتا ہے۔ یہاں دن میں تین وقت کھانے کی تیاری زوروشور سے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک پتیلے میں ہر وقت پانی ابلتا رہتا ہے۔

دن کا آغاز باورچی یا اس کے ساتھیوں کے موبائل فون میں موجود اس بھجن سے ہوتا ہے جو بلیو ٹوتھ سپیکر پر نشر کیا جاتا ہے۔

کچھ دیر بعد بھجن کی جگہ ملی نغمے لے لیتے ہیں اور پھر یہ نغمے 'چٹیاں کلائیاں' میں بدل جاتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں