’سیکس ڈول‘ جو بات بھی کر سکتی ہے

جنسی گڑیا
Image caption اے بس کری ایشنز کے سربراہ میٹ مکمولن ہارمنی کے ساتھ

ہارمنی (اردو میں ہم آہنگی) نام کی جنسی گڑیا روبوٹکس کی دنیا میں ایک نئی ایجاد ہے جو کہ بات چیت بھی کر سکتی ہے اور چل بھی سکتی ہے۔

لیکن ہارمنی کے جسم کی حرکات و سکنات بہت محدود ہیں اور وہ بہت کم گفتگو کر سکتی ہے۔

اس کے باوجود خاص بات یہ ہے کہ ہارمنی روبوٹکس کے نئے انقلاب کا حصہ ہے جہاں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی اے آئی ) کی صلاحیت کو ایسے روبوٹس میں ڈالا جا رہا ہے جن کی ساخت بالکل انسانی جسم سے مماثلت رکھتی ہے۔

کیا روبوٹ بچے کا متبادل ہو سکتا ہے؟

سمندری روبوٹ سانپ اور خودکار کشتیاں

اس ایجاد کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کی مدد سے انسانوں کا روبوٹس سے تعلق بدل جائے گا لیکن دوسری جانب اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹکس کے شعبے میں سب سے بری پیش قدمی ہے۔

یہ روبوٹ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان مارکوس کے مضافات میں قائم اے بس کری ایشنز کی فیکٹری میں بنائے گئے ہیں۔

Image caption فیکٹری آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کرنے والی گڑیاں

فیکٹری میں داخل ہونے والوں کو خوش آمدید کرنے کے لیے دو انسان نما روبوٹ گڑیا سوٹ پہنے کھڑی ہوئی ہیں۔ فیکٹری کی راہداری میں چلیں تو وہاں انتہائی خوبصورت خواتین مہمانوں کا انتظار کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہیں لیکن بغور دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی روبوٹ ہیں۔

اے بس کری ایشنز کے سربراہ میٹ مک مولن کا پس منظر آرٹ اور مجسمہ سازی کے میدان میں ہے۔ انٹرویو کے دوران واضح ہو رہا تھا کہ ان کو ہارمنی نامی روبوٹ سے بہت لگاؤ ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'بہت سے لوگ ان کی کمپنی کی ریئل ڈول، یعنی اصلی گڑیا اس لیے خریدتے ہیں کیونکہ ان کو اندازہ ہے کہ یہ صرف ایک ’سیکس ڈال‘ نہیں ہے۔ اس کی اپنی ایک شخصیت ہے جو کہ اے آئی کی مدد سے دی جاتی ہے۔'

Image caption ہارمنی کے جسم کی حرکات و سکنات بہت محدود ہیں اور وہ بہت کم گفتگو کر سکتی ہے۔

میٹ مک مولن کا کہنا تھا کہ ہارمنی کی ایجاد جنسی تسکین پوری کرنے کے لیے بنائی جانے والی جنسی گڑیاؤں کے ارتقا میں پیش قدمی ہے۔

اس گڑیا میں یہ خصوصیت ایک کمپیوٹر ایپ کے ذریعے ڈالی جاتی ہے اور صارف کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اس گڑیا کو اپنی مرضی کے مطابق غصیلا، پیار کرنے والا اور بیزار جیسی مختلف اقسام کی شخصیت دیں سکیں۔

میٹ مک مولن نے گڑیا کو 'جیلس' یعنی حسد کرنے والی شخصیت دی اور اس روبوٹ نے میٹ کو بولا 'اُس لڑکی کو فیس بک سے ہٹا دو۔'

Image caption اس گڑیا میں یہ خصوصیت ایک کمپیوٹر ایپ کے ذریعے ڈالی جاتی ہے

وہ کمپیوٹر ایپ جس سے ہارمنی میں اے آئی ڈالی جاتی ہے وہ فروخت کے لیے دستیاب ہے لیکن ایپل اور گوگل اس کو اپنے پاس جنسی مواد ہونے کی وجہ سے نہیں رکھ رہے۔

یہ گڑیا اس سال کے آخر میں دستیاب ہوگی اور اس کے دو الگ الگ نمونے ہوں گے۔ ایک نمونہ وہ ہے جس کی مدد سے گڑیا انسان کی شکل پہچان سکے گی اور اس کی قیمت 10000 امریکی ڈالر ہوگی جبکہ دوسرا نمونہ اس صلاحیت کے بغیر ہوگا اور اس کی قیمت 5000 امریکی ڈالر ہوگی۔

میٹ کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی دنیا بھر کے صارفین کے لیے یہ گڑیا بنا رہی ہے اور اگرچہ زیادہ تر خریدار مرد ہیں، ان کے مطابق کچھ گڑیا خواتین نے بھی خریدیں ہیں۔

میٹ مک مولن کہتے ہیں کہ گڑیاؤں کی شکل ان کے صارفین کی مرضی سے بنائی جاتی ہیں۔

'ہم یہاں پر کاروبار کر رہے ہیں اور ہمارے خریداروں کی اپنی فرمائشیں ہوتی ہیں جو کہ کئی مرتبہ غیر حقیقی اور تصوارتی ہوتی ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں