انڈین مسلم نوجوان نے 'سب سے ہلکا' سیٹیلائٹ بنا لیا

رفعت تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@RIFATH_SHAAROOK
Image caption تمل ناڈو کے 18 سالہ نوجوان رفعت شاہ رخ نے یہ سیٹیلائٹ بنایا ہے

ہندوستان کے ایک نوجوان نے ایک ایسا سیٹیلائٹ بنایا ہے جسے دنیا کا سب سے ہلکا سیٹیلائٹ کہا جا رہا ہے۔ اس سیٹیلائٹ کو امریکی خلائی ایجنسی ناسا اس سال جون میں مدار میں چھوڑے گی۔

رفعت شاہ رخ کے 64 گرام کے اس سیٹیلائٹ کو ایک مقابلے میں منتخب کیا گیا ہے۔ اس مقابلے کے انعقاد میں ناسا کا بھی تعاون تھا۔

18 سالہ نوجوان کا کہنا ہے کہ وہ اس کے ذریعے تھری ڈی پرنٹیڈ کاربن کی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔

٭ اڑنے والی گاڑی، اوبر میں ناسا کے انجینیئر کی بھرتی

رفعت نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ان کی ایجاد مدار کے ذیلی حصے کی پرواز پر چار گھنٹے کے لیے جائے گی۔

اس دوران یہ ہلکی پھلکی سیٹیلائٹ انتہائی کم قوت ثقل والے ماحول میں تقریباً 12 منٹ تک اپنا کام کرے گی۔

انھوں نے کہا: ہم نے اسے پوری طرح سکریچ سے تیار کیا ہے۔ اس میں ایک نئے قسم کا کمپیوٹر ہوگا اور آٹھ دیسی قسم کے سینسر ہوں گے جو کہ رفتار، گردش اور زمین کی قوت ثقل کو ماپیں گے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/RIFATHSHAAROOK
Image caption یہ سیٹیلائٹ صرف 64 گرام وزنی ہے

اس سیٹیلائٹ کا نام انڈیا کے سابق صدر اور سائنسدان اے پی جے عبدالکلام کے نام پر کلام سیٹ رکھا گیا ہے۔

ان کے ڈیزائن کو 'کیوبز ان سپیس' نامی مقابلے میں منتخب کیا گیا ہے جسے ناسا اور آئیڈوڈل کمپنی نے منعقد کرایا تھا۔

رفعت کا تعلق انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے ایک قصبے سے ہے اور اب وہ دارالحکومت چینئی میں قائم سپیس کڈز انڈیا کے رہنما سائنسداں کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

یہ ادارہ انڈیا کے بچوں اور نوجوانوں میں سائنس اور تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔

خیال رہے کہ کلام سیٹ ان کی پہلی ایجاد نہیں ہے۔ 15 سال کی عمر میں انھوں نے ملکی سطح کے ایک مقابلے کے لیے ہیلیم ویدر بلون یا غبارہ بنایا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں