ہمالیہ کی بلندیوں پر شرپاؤں کی بہتر کارکردگی کا راز

شرپا تصویر کے کاپی رائٹ EXTREME EVEREST
Image caption شرپا میں جینیاتی طور پر یہ صلاحیت پائی جاتی ہے جو انھیں منفرد میٹابولزم فراہم کرتے ہیں

نیپال کے شرپاؤں کی پہاڑوں کی بلندی پر بہتر کارکردگی ہمیشہ قابل رشک اور حیرت کا موجب رہی ہے۔

ایک تازہ تحقیق میں یہ پتہ چلا ہے کہ نیپال کے شرپا کی فیزیالوجی سمندری سطح کی آب و ہوا میں رہنے والے لوگوں کے مقابلے میں انھیں آکسیجن کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔

اس تحقیق میں 5300 میٹر کی بلندی پر کوہ پیماؤں کے پٹھے یا عضلے کے نمونے لیے گئے اور ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ میں انھیں ورزش کرنے والی بائیک پر بھی جانچا گیا۔

شرپا میں جینیاتی طور پر یہ صلاحیت پائی جاتی ہے جو انھیں منفرد میٹابولزم فراہم کرتے ہیں۔

ایک زمانے سے یہ بات حیرت انگیز تھی کہ کم آسکیجن والے ہمالیائی علاقے کے ماحول سے شرپا وہاں آنے والے دوسروں کے مقابلے میں بہتر طریقے سے کیسے نمٹتے ہیں۔

دوسرے علاقوں سے آنے والے کوہ پیما یا ٹریکر اس کم آکسیحن والے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اپنے خون میں سرخ خلیوں کی مقدار بڑھا کر آکسیجن لینے کی اپنی صلاحیت میں اضافہ کرلیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EXTREME EVEREST
Image caption ایورسٹ کے بیس کیمپ میں کوہ پیماؤں کے عضلے کے نمونے لیے گئے

اس کے برعکس شرپا کا خون پتلا ہوتا ہے اور اس میں کم ہوموگلوبن یا سرخ خلیے ہوتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان میں آکسیجن لے جانے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔

اس مطالعے کے سینیئر مصنف اور کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو مرے نے کہا: 'اس سے یہ معلوم چلتا ہے کہ اہمیت اس بات کی نہیں کہ آپ میں کتنی آکسیجن ہے بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ اس کا کیسے استعمال کرتے ہیں۔'

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'شرپا ہمالیہ کی اونچی چوٹیوں پر ناقابل یقین طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اس لیے ان کی فیزیالوجی میں یقیناً کوئی چیز غیرمعمولی ہے۔'

تحقیق سے معلوم چلا کہ شرپا کے خلیے آکسیجن کا بہتر استعمال کرتے ہیں، جسم میں چربی کو کم پگھلنے دیتے ہیں جبکہ گلوکوز لینے کی مقدار کو بڑھا دیتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں