ایپل اور نوکیا ایک دوسرے سے ’تعاون‘ کرنے پر تیار

تصویر کے کاپی رائٹ PA

موبائل فون بنانے والی کمپنیوں ایپل اور نوکیا کے درمیان سمارٹ فونز میں پیٹنٹ ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے جاری تنازع حل ہو گیا ہے اور دونوں کمپنیوں نے ’تعاون‘ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ دسمبر میں نوکیا نے ایپل پر یہ کہہ کر مقدمہ کیا تھا کہ اس نے ڈسپلے، یوزر انٹرفیسز اور ویڈیو اینکوڈنگ سمیت 32 ٹیکنالوجی پیٹنٹس کی خلاف ورزی کی ہے۔

تاہم اب دونوں کمپنیوں نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ایپل ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکے گا اور نوکیا کو ادائیگی کی جائے گی۔

اس کے علاوہ ایپل نوکیا کی ہیلٹھ پراڈکٹس کو اپنے سٹور میں جگہ بھی دے گا۔

دونوں کمپنیوں کی جانب سے مالیاتی معاہدے کے حوالے سے خصوصی معلومات تو فراہم نہیں کی گئی ہیں تاہم ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اس سے نوکیا کو کروڑوں ڈالر مل سکتے ہیں۔

صنعتی تجزیہ کار کیتھ میلنسن کا کہنا ہے کہ ’چونکہ یہ معاہدہ سالانہ ہے تو اس لیے امکان ہے کہ اس کی مالیت کرڑوں ڈالر کے قریب ہوں۔‘

’اس کی ایک وجہ تو یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس میں کئی پیٹنٹس شامل ہیں، اور نوکیا کیونکہ موبائل فون کی دنیا کے بانیوں میں سے ہے اس لیے اس کے پاس بعض اہم پیٹنٹس موجود ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن اگر آپ ایپل کے کاروبار کو دیکھیں تو صرف موبائل فون کی صنعت میں ایک اندازے کے مطابق 2016 میں اس نے آئی فون کی فروخت سے 140 بلین ڈالر کمائے۔‘

’تو اگر ایک فیصد سے بھی کم کی رائلٹی بھی ہو تو یہ کروڑوں ڈالر رقم بن جائے گی۔‘

نوکیا کا کہنا ہے کہ وہ ’مستقبل میں ایپل کی مدد کرنے کا سوچ رہا ہے جبکہ ایپل کے جیف ولیمز نے کہا ہے کہ ’کمپنی کو اس تنازع کے حل سے خوشی ہوئی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں