'جس روز بجلی بنائی، حکومت نے فنڈز روک دیے'

انڈر گراونڈ گیسی فیکیشن
Image caption انڈر گراونڈ گیسی فیکیشن منصوبے کے تحت 100 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا

پاکستان کا پہلا 'انڈر گراؤنڈ کول گیسی فیکیشن' منصوبہ بند ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے اور فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث 500 ملازمین کو اگلے ماہ فارغ کرنے کے نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

صحرائے تھر میں اس منصوبے کے تحت زیر زمین کوئلے کو جلا کر سیان گیس حاصل کرنی تھی اور پھر جنریٹر کی مدد سے بجلی پیدا کرنا تھی۔

منصوبے کے چیف انجینیئر عبدالحمید خان کا کہنا ہے کہ سنہ 2012 میں 100 میگاواٹ بجلی کی پیدوار کے لیے یہ منصوبہ شروع کیا گیا تھا اور 28 مئی سنہ 2015 کو اس نے کامیابی کے ساتھ پیداوار شروع کر دی تھی۔

٭ خواہش بجلی کی، دلچسپی ڈیزل میں

٭ قحط زدہ تھر کے لیے امید کی نئی کرن

٭ 'چار برس میں 14 بجلی گھر بنائے جائیں گے'

اس گیس پیدا کرنے کے منصوبے کے سربراہ اور پاکستان کے نامور سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کہتے ہیں منصوبے کی کامیابی سے ہی مخالف ردعمل سامنے آیا: 'ہم نے بڑی خوشی خوشی وزیر اعظم، وزیر منصوبہ بندی اور وزیر اعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر آگاہ کیا کہ ہم نے بجلی بنانا شروع کردی ہے اور اسی روز سے پیسے بند کر دیے گئے۔'

پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے جس کے لیے نو ارب روپے مختص کیے گئے تھے جس میں سے صرف تین ارب روپے جاری کیے گئے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک کے مطابق گذشتہ مالی سال میں بھی فنڈز فراہم نہیں کیے گئے اور نہ ہی آئندہ آنے والے مالی سال میں مختص کیے گئے ہیں، 'ہم نے بڑی مجبوری اور دکھ کے ساتھ لوگوں کو فارغ کرنے کے لیے لیٹر جاری کیے ہیں۔'

Image caption فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث 500 ملازمین کو اگلے ماہ فارغ کرنے کے نوٹس جاری کردیے گئے ہیں

ڈاکٹر ثمر مبارک کے مطابق وہ حکومت کو چھ روپے فی یونٹ بجلی بنا کر دینے کے لیے تیار ہیں، جس سے کوئی آلودگی نہیں ہو رہی ہے اور سب سے بڑی بات مقامی کوئلہ استعمال ہو رہا ہے۔ یہ منصوبہ 100 میگاواٹ کا ہے جو ابھی صرف 10 میگاواٹ پیداوار تک گیا ہے اور فنڈز بند کردیے گئے۔ کیونکہ جب یہ منصوبہ 100 میگاواٹ پر جاتا تو منظر نامہ تبدیل ہوجاتا کیونکہ دیگر جو بھی پرائیوٹ منصوبے ہیں وہ 15 سے 18 روپے فی یونٹ بجلی بنا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا: 'پاور سیکٹر میں جو سپلائی کا سلسلہ ہے اور جو انھیں فرنس آئل فراہم کرتی ہے وہ ایک مافیا بنا ہوا ہے اور یہ اعلیٰ سطح پر کام کرتا ہے جس میں حکومت کے بھی بااثر لوگ اور بزنس مین شامل ہیں جو ان آئی پی پپز میں حصہ دار ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ اتنی سستی بجلی کی پیداوار ہو۔'

پاکستان کے محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے گذشتہ سال بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ منصوبے کی کامیابی کی کسی تیسرے فریق سے تصدیق کرانے کے بعد فنڈز جاری کیے جائیں گے۔

ڈاکٹر ثمر مبارک کا کہنا ہے کہ جب سائنٹفک ویلیڈیشن کرائیں گے تو اس کے لیے ٹرم آف ریفرنسز بنائیں گے کہ منصوبے کی مالی تصدیق کرنی ہے، فنی یا ماحولیاتی۔ پلاننگ کمیشن نے کبھی ایک سطر لکھ کر نہیں بھیجی کہ اس منصوبے کی سائنسی تصدیق کرائیں حالانکہ جو فنڈنگ کرتا ہے منصوبے کی تصدیق بھی وہ ہی کراتا ہے۔

Image caption ڈاکٹر ثمر مبارک کے مطابق اس پراجیکٹ کے تحت ابھی 10 میگا واٹ بجلی ہی پیدا ہونی شروع ہوئی تھی

انھوں نے مزید کہا: سنہ 2009 میں ہم نے جب منصوبے کی پی سی ون بنائی تھی اس میں تمام تفصیلات بیان کی تھی اور پلاننگ کمیشن نے بحث و مباحثہ کے بعد اس کا جائزہ لے کر منظوری دی تھی اور ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکانامک کاؤنسل یعنی 'ایکنک' کو بھیجی اور ایکننک نے بھی اس کو منظور کیا۔

اگر کسی منصوبے کی درمیان میں سائنسی تصدیق کرانی ہے تو پلاننگ کمیشن کے پاس انسپیکشن اور ویلیڈیشن شعبے کا ایک کل وقتی رکن ہوتا ہے جس کے ساتھ 40-50 لوگوں کی ٹیم ہوتی ہے جو مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ہوتی ہے جو منصوبے کی توثیق کرتا ہے۔

Image caption یہ پراجیکٹ صحرائے تھر میں لگایا گیا تھا جس کے لیے نو ارب روپے مختص کیے گئے تھے

پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں شرو ع ہونے والے حکومت سندھ کے اس منصوبے کی فنڈنگ وفاقی حکومت نے کرنی تھی۔

ڈاکٹر ثمر مبارک کے مطابق 'اب جب موجودہ وفاقی حکومت نے فنڈنگ روک دی ہے تو پھر حکومت سندھ کو ہمت کرنی چاہیے کیونکہ تین ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں باقی سات آٹھ ارب ڈالیں گے تو یہ منصوبہ 100 میگاواٹ پر چلا جائے گا، یہ حکومت سندھ کے لیے کوئی بڑی رقم نہیں۔ ان کے ہر سال پ50-60 ارب رپے استعمال ہونے سے رہ جاتے ہیں۔'

انھوں نے کہا: 'ہم اس منصوبے سے پورے سندھ کو بجلی فراہم کرسکتے ہیں اس کے علاوہ اس سے گھریلو گیس اور ڈیزل بنایا جا سکتا ہے، فرٹیلائزر فیکٹریاں لگ سکتی ہیں، نائلون یارن اور مصنوعی فائبر بناسکتے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں