'وانا کرائی' وائرس کے پیچھے چینیوں کا ہاتھ؟

وانا کرائی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وانا کرائی نے کمپیوٹر لاک کر دیے تھے اور ہیکروں نے لوگوں سے تاوان کا مطالبہ کیا تھا

تازہ ترین تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ واناکرائی نامی رینسم ویئر کے اس حملے کے پیچھے چینی بولنے والوں ہیکروں کا ہاتھ ہو سکتا ہے جس نے دنیا بھر کے اداروں اور کمپنیوں کو متاثر کیا تھا۔

فلیش پوائنٹ نامی سکیورٹی کمپنی کے ماہرین نے تاوان کے پیغام میں لکھی جانے والی زبان کا جائزہ لیا۔

ان کا کہنا ہے کہ چینی زبان میں لکھے جانے والے پیغامات کی گرامر اور رموزِ اوقاف سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے چینی بولنے والوں نے لکھا ہے۔

اس کے مقابلے پر دوسری زبانوں میں لکھے جانے والے پیغامات کی زبان ایسی تھی جیسے انھیں کمپیوٹر کی مدد سے ترجمہ کیا گیا ہو۔

وانا کرائی کا تاوان کا پیغام 28 مختلف زبانوں میں تھا لیکن ماہرین کے مطابق صرف چینی اور انگریزی زبانیں ہی انسانوں کی لکھی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔

دو ہفتے قبل ہونے والے وانا کرائی کے سائبر حملے سے ڈیڑھ سو ملکوں کے دو لاکھ سے زائد کمپیوٹر متاثر ہوئے تھے، جن میں سرکاری اداروں، صحت کے اداروں اور نجی کمپینوں کے کمپیوٹر شامل ہیں۔

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی، امریکی ایف بی آئی اور یورو پول اس معاملے کے مرتکب افراد کا کھوج لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ابتدائی تجزیوں سے پتہ چلا تھا کہ شاید یہ حملہ شمالی کوریا سے کیا گیا تھا۔

تاہم فلیش پوائنٹ کے ماہرین کہتے ہیں کہ کورین زبان میں لکھا گیا پیغام انگریزی کا ناقص ترجمہ تھا۔

سائبر سکیورٹی کے ماہر پروفیسر ایلن وڈورڈ کہتے ہیں: 'صرف چینی اور انگریزی زبانوں کے پیغامات ہی ایسے لوگوں کے لکھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں جنھیں زبان آتی ہے۔

'بقیہ پیغامات بظاہر گوگل ٹرانسلیٹ سے ترجمہ کیے گئے ہیں، بشمول کورین پیغام کے۔'

پروفیسر وڈورڈ نے کہا کہ ہیکروں نے بِٹ کوئن کی مدد سے رقم وصول کرنے کی کوشش نہیں کی۔ شاید وہ فی الحال چھپا رہنا چاہتے ہیں۔

'انھیں پتہ ہے کہ لوگ ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اور اس رقم کے ذریعے ان تک پہنچا جا سکتا ہے۔ مجھے شبہ ہے کہ اگر ان میں ذرا بھی عقل ہوئی تو وہ اسے ہاتھ نہیں لگائیں گے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں