پیرس ماحولیاتی معاہدے پر چین، یورپی یونین ایک ساتھ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چین اور یورپی یونین کے رہنما پیرس ماحولیاتی معاہدے سے متعلق ایک مشترکہ بیان میں اس موقف کے ساتھ اتفاق کرنے والے ہیں کہ یہ 'پہلے سے کہیں زیادہ ضروری اور اہم ہے۔'

اس سے متعلق ڈرافٹ تک بی بی سی کو جو رسائی حاصل ہوئی ہے اس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ 'اس کے نفاذ کے لیے اعلی درجے کے سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔'

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو پیرس معاہدے سے باہر نکالنے کی بات کرتے رہے ہیں، اس پس منظر میں چین اور یورپ کا اس کی حمایت میں کھڑا ہونا ان کے لیے ایک طرح کی سبکی کا سبب ہے۔

صدر ٹرمپ جمعرات کو ہی اس بارے میں اہم اعلان کرنے والے ہیں کہ آخر وہ اس معاہدے میں شامل ہوتے یا پھر نہیں۔

اس سلسلے میں یورپی یونین اور چین کے مشترکہ بیان کی تفصیلات جمعے کے روز برسلز میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری کی جائیں گي۔

تصویر کے کاپی رائٹ EU
Image caption یورپی یونین میں ماحولیات سے متعلق کمشنر میگیوئل اریاز اور ان کے چینی ہم منصب

متعلقہ دستاویز میں عالمی سطح پر بڑھتی حدت سے ہونے والے خطرات کے بارے بتایا گيا ہے اور اس پہلو پر زور دیا گیا ہے کہ صاف ستھری توانائی اپنانے سے معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ روزگار کے بھی مواقع پیدا ہوں گے۔

اس کے مطابق: 'یورپی یونین اور چین پیرس معاہدے کو ایک تاریخی کامیابی کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے بین القوامی سطح پر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی کا عمل تیز تر ہوگا اور آب ہوا کے بہتر ہونے میں پیش رفت ہوگي۔'

اس کے مسودے میں کہا گيا ہے کہ 'چین اور یورپی یونین پیرس معاہدے کے سبھی پہلوؤں کے موثر نفاذ کے لیے اپنے اعلی سیاسی عزم کو اہمیت دیتے ہیں۔'

یورپی یونین میں ماحولیات سے متعلق کمشنر میگیوئل اریاز نے کہا: 'یورپی یونین اور چین پیرس معاہدے پر عمل درآمد کرنے کے مقصد سے بین الاقوامی سطح پر صاف توانائی کی طرف منتقل ہونے والے فورسز میں شامل ہو رہے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا: 'کسی کو بھی اس میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے، لیکن یورپی یونین اور چین نے اس سمت میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماحولیات کی تبدیلی سے موسمی تبدیلیاں ہورہی ہیں

چین اور یورپی یونین کے درمیان اس نوعیت کے تعاون میں اضافہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکہ نے پیرس معاہدے سے پیچھے ہٹنے کے اشارے کیے ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ نے ایسے متعدد ذرائع کا حوالہ دیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو اس معاہدے سے باہر نکال لیں گے۔

ادھر مسٹر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ وہ یکم جون یعنی جمعرات کو ہی اس بارے میں اپنی پالیسی کا اعلان کریں گے۔

حال میں جی 7 کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر اتفاق نہیں ہو پایا تھا اور اسی پس منظر میں امریکہ اپنے موقف کا اعلان کرنے والا ہے۔

جرمن چانسلر اینگلا میرکل نے اس میٹنگ کے بعد اس سلسلے میں امریکی پالیسی کے حوالے سے افسردگی کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا: 'اگر بہت ہے غیر اطمنان بخش نہیں تو ماحولیات سے متعلق پوری بات چیت بہت مشکل ضرور تھی۔ اس بات کا کوئی اشارہ تک نہیں تھا کہ امریکہ پیرس معاہدے کا پابند بھی رہے گا یا نہیں۔'

ادھر ماحولیات کے لیے کام کرنے والے ماہرین اور کارکنان نے اس مسئلے پر چین اور یورپ کے ایک ساتھ آنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے لیکن امریکہ کی آنی کانی پر مایوسی کا بھی اظہار کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں