امریکہ کے پیرس معاہدے سے نکل جانے سے دنیا پر کیا اثر پڑے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکہ نے ماحولیات سے متعلق پیرس معاہدے سے باہر ہونے کا اعلان کردیا ہے تو اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس کا اثر باقی دنیا پر کیا پڑے گا؟

امریکہ کے نکل جانے سے معاہدہ اور عالمی برادری دونوں متاثر ہوں گے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیرس معاہدے سے باہر نکلنے سے عالمی برادری نے اس معاہدے کے تحت جو اہداف مقرر کیے تھے ان کا حصول اب اور زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

پیرس معاہدے کے تحت عالمی سطح پر حدت میں دو ڈگری سیلسیئس سے زیادہ اضافہ نہ ہونے کی بات کہی گئی تھی۔

عالمی سطح پر کاربن کا جو بھی اخراج ہوتا ہے اس میں امریکہ کا 15 فیصد حصہ ہے وہیں وہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ماحولیات سے متعلق ٹیکنالوجی تک رسائی اور مالی امداد کے لیے بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔

ایک سوال اخلاقی قیادت کا بھی ہے، جسے امریکہ ترک کر دے گا اور اس کے دیگر سفارتی سطح پر بھی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکہ میں ماحولیات کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم سے وابستہ کارکن مائیکل بروئن کا کہنا ہے ’اس معاہدے سے الگ ہو نا ایک تاریخی غلطی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا: 'ہمارے پوتے اور نواسے مایوسی سے پیچھے کی طرف یہ سوچ کر دیھکیں گے کہ ایک عالمی رہنما کیسے اس قدر اخلاقی قدروں اور حقییت سے دور ہو سکتا ہے۔'

امریکہ کی مشکل چین کے لیے موقع ہے

امریکہ اور چین کی انتھک کوششوں کے سبب ہی پیرس معاہدے طے پایا تھا۔ اب جب کہ امریکہ نے اس سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے چین نے یورپ کے ساتھ مل کر اس معاہدے پر عمل کرنے کی بات کہی ہے اور اس کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EU
Image caption یورپی یونین میں ماحولیات سے متعلق کمشنر میگیوئل اریاز اور ان کے چینی ہم منصب

یورپی یونین میں ماحولیات سے متعلق کمشنر میگیوئل اریاز نے کہا 'کسی کو بھی اس میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے لیکن یورپی یونین اور چین نے اس سمت میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔'

امریکی خطے سے کینیڈا اور میکسیکو جیسے ممالک بھی ماحولیات کی بہتری کے لیے اپنا اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔

عالمی تاجروں کو مایوسی ہوگي

امریکہ کے کارپوریٹ شعبے کے بیشتر لوگ پیرس معاہدے کے حامی ہیں۔ گوگل، ایپل اور فوسل ایندھن کے شعبے میں کام کرنے والی سینکڑوں دیگر کمپنیوں نے صدر ٹرمپ سے پیرس معاہدے پر عمل پیرا ہونے کے لیے زور دیا تھا۔

بعض کمپنیوں نے اس کے لیے صدر ٹرمپ کو خطوط لکھے تھے اور اس کی اہمیت اجاگر کی تھی۔

کوئلے کی واپسی مشکل ہے

امریکہ نے توانائی کے لیے کوئلے کے بجائے دوسرے متبادل ذرائع پر توجہ مرکوز کی ہے اور اس کے اثرات اب دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانیہ نے سنہ 2025 تک بجلی کے لیے کوئلے سے نجات حاصل کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ میں شمشی توانائی کے مقابلے میں کوئلے کی صنعت میں روزگار کے مواقع کم ہو کر نصف رہ گئے ہیں۔

ترقی پذیر ممالک کئی دہائیوں سے توانائی کے بڑے ذریعے کے طور پر کوئلے پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ اس سے ان ممالک میں فضائی آلودگی بری طرح متاثر ہوگی لیکن عوام میں اس سے ناراضگی پیدا ہونے کے امکان بھی کم ہیں۔

معاہدے سے نکلنے کے باوجود امریکہ میں گرین ہا‎ؤس گیسز کے اخراج میں کمی ہوگي

امریکہ کے پیرس معاہدے سے نکلنے کے باوجود بھی امریکہ میں کاربن کے اخراج میں گراوٹ کی توقع ہے۔ امریکہ میں توانائی کا اب زیادہ دار و مدار کوئلے کے بجائے گیس پر ہے اس لیے کاربن میں کمی ہونا لازمی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں