ٹیکنالوجی کمپنیوں نے ٹریزا مے کے الزامات مسترد کر دیے

ٹوئٹر فیس بک تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption ٹریزا مے نے اتوار کو کہا تھا کہ ٹکنالوجی کمپنیوں کے لیے مزید ضابطے بنائے جانے چاہییں

بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کے الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ اسلام پسند انتہا پسندی کو 'محفوظ جگہ' فراہم کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ ٹریزا مے نے لندن میں ہونے والے حملے کے ضمن میں کہا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے کی منصوبہ بندی کو روکنے کے لیے سائبر سپیس کو منضبط کرنے کی بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت ہے۔

٭ ’غیرقانونی مواد پر سوشل میڈیا کمپنیوں کا طرزِ عمل شرم ناک ہے‘

٭ فیس بک دہشت گردوں کو پکڑنے میں مدد دے گی

٭ امریکہ میں انٹرنیٹ پرائیوسی ختم کرنے پر غم و غصہ

انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کے بعض حصوں کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں دہشت گردانہ نظریات کو 'محفوظ مقام' فراہم کرتے ہیں۔

لیکن اوپن رائٹس گروپ نے کہا کہ سماجی رابطے کی کمپنیاں مسئلہ نہیں ہیں جبکہ ریڈيکلائزیشن کے ایک ماہر نے ٹریزا مے کے بیان کو 'دانشوارنہ طور پر کاہل' سے تعبیر کرتے ہوئےتنقید کا نشانہ بنایا۔

ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل کا کہنا ہے کہ وہ انتہا پسندی سے لڑنے کے لیے پہلے سے ہی سخت کوشش کر رہے ہیں۔

ٹریزا مے کے الزامات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ اس نے پہلے ہی لاکھوں ڈالر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے خرچ کر رکھے ہیں جبکہ فیس بک نے کہا کہ وہ جارحانہ انداز میں اس قسم کے مواد کو ہٹاتا رہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption برطانوی وزیر اعظم نے اتوار کو ہونے والے حملے کے پیش نظر ٹکنالوجی کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا

بی بی سی کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کا شعبہ اس بات پر تقریبا متفق ہے کہ میسجنگ کے ایپ میں انکرپشن کو کمزور کرنے سے تمام صارفین کی پرائیویسی کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

گوگل (یوٹیوب اس کا حصہ ہے) فیس بک (واٹس ایپ اس کا حصہ ہے) اور ٹوئٹر پر پہلے سے ہی انتہا پسند مواد سے نمٹنے کا دباؤ ہے جو کہ اتوار کے بعد مزید بڑھ گیا۔

برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے کہا: 'ہم اس نظریے کو پنپے کے لیے محفوظ مقامات فراہم نہیں کر سکتے۔ تاہم انٹرنیٹ اور بڑی کمپنیاں ۔۔۔ فراہم کر رہی ہیں۔'

وزیر داخلہ امبر روڈ نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ریڈیکلائزیشن کو روکنے کے لیے مزید کوشش کریں۔

پرائیوسی اور آن لائن پر اظہار رائے کی آزادی کی حمایت کرنے والے اوپن رائٹس گروپ نے متنبہ کیا کہ مزید ضابطوں سے دہشت گردوں کے 'ذلیل نٹورک' کے ویب کے 'مزید اندھیرے حصوں' میں جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ 'فیس بک جیسی انٹرنیٹ کمپنیاں نفرت اور تشدد کے اسباب نہیں ہیں بلکہ غلط طریقے سے انھیں مہرہ بنایا جا سکتا ہے۔'

اسی بارے میں