بولو ٹیک ایپ: قوت گویائی سے محروم بچوں کا دوست

بولو ٹیک

جو بچے بچپن میں سن نہیں سکتے انھیں بولنے میں بھی دقت کا سامنا ہوتا ہے۔ بیشتر ڈاکٹرز کے مطابق اگر بچپن میں ہی اس کمی سے نمٹا جائے یعنی انھیں بولنے کی تربیت بروقت دی جائے تو زیادہ تر کیسز میں بچے بولنا سیکھ سکتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا کی پانچ فیصد آبادی کی بولنے اور سننے کی صلاحیت سے پیدایش کے دن سے ہی متاثر ہوتی ہے۔

لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر مملک میں ایسے بچوں خصوصاً غریب خاندانوں کے لیے حکومتی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث بیشتر بچوں کا یہ عارضی نقص دائمی معذوری بن جاتا ہے۔ انہی وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے کراچی کی سافٹ ویئر انجینرنگ کی طالبات رباب فاطمہ اور ان کی ہم جماعت شانزے خان نے ’بولو ٹیک‘ نامی ایک ایپ ڈیزائن کی ہے جو متاثرہ افراد کو بولنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔

موبائل یا کمپیوٹر پر بولو ٹیک ایپ کے ذریعے اب متاثرہ افراد ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں گھر بھیٹے بولنے کی مشق کر پائیں گے۔

بولنا سیکھنے کے عمل میں تیزی

اس سلسلے میں 23 سالہ رباب فاطمہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ابھی جو منویل طریقے سے تھریپی کی جاتی ہے اس میں ایک تو ایسے بچوں کی توجہ حاصل نہیں مشکل ہوتا ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹرز کی محنت دگنی ہو جاتی ہے۔

’ہماری ایپ کے برعکس اس طریقہ کار میں تصاویر یا ویڈیو کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ جبکہ بچے سیکھنے کے عمل میں تصاویر اور ویڈیوز کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں ہے اس لیے یہ عمل تیز ہو جاتا ہے۔ ہماری ایپ کے ذریعے تین ماہ کا سیکھنے کا عمل ایک ماہ میں حاصل کیا جا سکتا ہے ۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ دنیا میں یہ پہلا موقع ہے کہ اردو میں کسی نے ایسی ایپ بنائی ہے۔ دیگر زبانوں میں ایسی ایپ پہلے سے ہی موجود ہے۔ اسی لیے کراچی میں مقیم ادارے ’دا نیسٹ‘ نے ایک تقریب کے ذریعے رباب اور شانزے کو موقع دیا کہ کہ وہ اپنی ایپ کی تشہیر قومی اور بین اقوامی سطح پر کر سکیں تاکہ ایپ کو چلانے کے لیے درکار رقم حاصل ہو پائے۔

اور اس کے بعد اسے جلد ازجلد سکولوں اور ہسپتالوں میں متعارف کیا جا سکے تاکہ متاثرہ بچوں کی بحالی جلد ممکن ہو۔

خرچے میں خطرخواہ کمی

ایک اندازے کے مطابق ایک اچھا ڈاکٹر تھریپی کے دو ہزار سے پانچ ہزار روپے ایک سیشن کے لیے لیتا ہے جبکہ دیہات سے شہر آنے کا خرچہ الگ۔ لیکن شانزے خان کا کہنا ہے کہ اس ایپ کے استعمال سے خرچہ میں خطرخواہ کمی آئے گی۔

انھوں نے بتایا کہ ’ولو ٹیک ایپ کے ذریعے آپ کو ڈاکٹر کی فیس صرف ایک مرتبہ دینا ہو گی جس کے بعد والدین بچوں کو بولنے کی مشق گھر پر خود کرا سکتے ہیں۔ دوسرا جس کے پاس موبائل ہے وہ یہ ایپ استعمال کر سکتا ہے تو لہذا دیہات کے لوگوں کا بار بار شہر آنے کا خرچہ بھی بچ جائے گا۔‘

ایک مرتبہ ایپ ڈاون لوڈ کرنے کے بعد اسے انٹرنیٹ کے بغیر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

لگ بھگ دو کروڑ کی آبادی کے شہر کراچی میں ایسے بچوں کے لیے کم سے کم چار سکول موجود ہیں جبکہ چند کی غیر سرکاری سکول ایسے بچوں کی تربیت پر وقت صرف کر رہے ہیں جب کہ رسائی بیشتر بچوں کے لیے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ ایسے میں امید کی جا سکتی ہے ٹیکنالوجی اس خلا کو پورا کر سکے گی اور ایسے بچے معاشرے سے کٹ کر نہ رہیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں