'انسانوں جیسی پہلی مخلوق' مراکش میں تھی

تصویر کے کاپی رائٹ PHILIPP GUNZ/MPI EVA LEIPZIG

سائنس دانوں کی نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ شاید اب اس نظریے کی اہمیت باقی نہیں رہی کہ موجودہ انسان کا ارتقا تقریباً دو لاکھ برس قبل صرف مشرقی افریقہ 'انسانیت کے گہوارے' میں ہی ہوا ہے۔

شمالی افریقہ میں زمانہ قدیم کے پانچ انسانوں کی ایسی باقیات دریافت ہوئی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی انسانی نسل کا وجود پہلے سے تسلیم شدہ دو لاکھ برس سے ایک لاکھ سال پہلے ہی رہا ہوگا۔

نئی دریافت کے مطابق انسانی نسل کا ابتدائی مرحلہ دو لاکھ برس قدیم نہیں بلکہ تین لاکھ سال پرانا ہوسکتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں شامل سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس میں اس بات کا بھی اشارہ ملتا ہے کہ انسانی نسل کا ارتقا کسی ایک خاص مقام پر نہیں بلکہ پورے براعظم میں ہوا ہوگا۔

اس سے متعلق نئی تحقیقات سائنس کے جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SHANNON MCPHERRON/MPI EVA LEIPZIG
Image caption مراکش میں جبل ارہود کا مقام

جرمنی میں انسانی ارتقا سے متعلق ادارے 'میکس پنیک انسٹیٹیوٹ' سے وابستہ پروفیسر ژاں چیکیز ہبلن کا کہنا ہے کہ اس نئی دریافت سے 'ہمارے ایک نسل کے طور پر ابھرنے سے متعلق نصابی کتابیں دوبارہ لکھنی پڑ سکتی ہیں۔'

ان کا کہنا تھا: 'یہ کہانی ' افریقہ میں کہیں ایڈن گارڈن' (جنت ) میں تیزی سے ہونے والے عمل کی کہانی نہیں ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ بتدریج پیش رفت تھی جس میں پورا بر اعظم شامل تھا۔ تو اگر کہیں ایڈن گارڈن تھا بھی، تو وہ پورا افریقہ تھا۔'

پروفیسر ہبلن پیرس میں 'کالج ڈی فرانس' میں ایک نیوز کانفرنس میں بات کر رہے تھے۔ انھوں نے اس موقع پر صحافیوں کو وہ انسانی باقیات بھی دکھائے جو انھوں نے مراکش کے جبل ارہود سے کھود کر نکالے تھے۔ اس میں انسانی کھوپڑی، دانت اور لمبی ہڈیاں شامل ہیں۔

پرفیسر ہبلن نے جبل ارہود سے حاصل ہونے والے ہڈیوں پر دس برس سے زیادہ سے کام کرتے رہے ہیں اور اسی تحقیق کی بنیاد پر نئے شواہد پیش کیے ہیں جو کافی مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

اس علاقے سے جو نیا مواد حاصل ہوا ہے وہ اعلٰی تکنیک کے مطابق تقریباً تین ساڑھے تین لاکھ سال قدیم ہے جبکہ کھوپڑیوں وضع تقریباً موجودہ دور کے انسانوں ہی جیسی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ JEAN-JACQUES HUBLIN/MPI-EVA, LEIPZIG

ان کی اس تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس دور کے قدیم لوگ پتھروں کے اوزار سے مانوس تھے، انھیں زندگی گزارنے اور کنٹرول کرنے کا سلیقہ بھی تھا۔ تو وہ صرف انسانوں کی طرح دکھتے ہی نہیں تھے بلکہ ان کا عمل بھی انسانوں ہی جیسا تھا۔

ابھی تک قدیم انسانوں کی جو باقیات ملی تھیں ان کا تعلق ایتھوپیا سے ہے اور اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تقریباً دو لاکھ برس پرانی ہیں۔

لیکن اس نئی تحقیق کے مطابق انسانی تاریخ اس سے بھی پرانی ہوسکتی ہے۔ پروفیسر ہبلن کے مطابق: 'پہلے پہل جدید انسان کی ابتدا کیسے ہوئی اس بارے میں ہمیں اپنے نقطہ نظر پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔'

اس کے مطابق موجودہ انسانی ارتقا سے پہلے ابتدا میں انسانوں کی مختلف نسلیں تھیں، جو دیکھنے میں ایک دوسرے سے مختلف تھیں اور سب کی اپنی خوبیاں اور خامیاں تھیں۔ اور ایسی مختلف نسلوں کا دیگر جانوروں کی طرح ہی ارتقا ہوا، ان کی شکلیں اور ہیئیت ہزاروں سال میں تبدیل ہوتی گئیں۔

اس کے برعکس اب تک کا نظریہ یہ ہے کہ قدیم انسانی نسل سے موجودہ انسانی نسل کا ارتقا تقریباً دو لاکھ برس قبل مشرقی افریقہ کے ایتھوپیا کے علاقے میں اچانک ہوا۔ اس کے مطابق اس کے بعد انسانی نسل افریقہ میں پھیلی اور بالآخر دنیا بھر میں پھیلنے لگی۔

لیکن پروفیسر ہبلن کی دریافت اس نظریے سے متصادم نظر آتی ہے۔

اس ٹیم میں شامل ایک دوسرے سائنس دان ڈاکٹر شانین میکفران کہتے ہیں: 'ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ بنی نوع انسان کی ابتدا مراکش میں ہوئی بلکہ جبل ارہود کی دریافت سے پتہ یہ چلتا ہے کہ اس طرح کے مقامات تین لاکھ برس پہلے پورے افریقہ میں پائی جاتی تھیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں