یو ٹیوب سے سیکھ کر طیارہ بنانے والا مکینک

پین لونگ تصویر کے کاپی رائٹ HOLLY ROBERTSON
Image caption پین لونگ پیشے سے میکنک ہیں اور ان کا اپنا گیراج ہے

وڈیو شیئرنگ سائٹ یوٹیوب پر راتیں گزرتی رہیں، ہوا میں قلابازیاں کھانے والے طیارہ بنانے کا خواب پنپتا رہا۔۔۔ اور پھر ایک دن، انھوں نے چھوٹے چھوٹے پرزے جوڑ کر طیارہ بنا لیا۔

یہ کہانی کمبوڈیا کے کار مکینک، پین لونگ کی ہے۔ وہ بچپن سے ہی طیاروں میں بے انتہا دلچسپی رکھتے ہیں۔

پین لونگ تین سال تک اپنی بیوی کے سو جانے کے بعد گھنٹوں جاگتے رہتے تھے۔ وہ گھنٹوں یو ٹیوب ویڈیو دیکھتے رہتے تھے۔

لیکن یہ کوئی پاپ موسیقی یا وائرل ویڈیو کلپس نہیں ہوتے تھے۔

دیوانگی

کمبوڈیا کے جنوب مشرقی دیہی علاقے میں ایک ہائی وے کے کنارے رہنے والے لونگ کی تو بس ایک ہی دیوانگی ہے - ہوائی جہاز۔

وہ کہتے ہیں: 'ابتدا میں میں جیٹ کی ورڈ ٹائپ کرتا تھا۔

یو ٹیوب میں کی ورڈ طیاروں کی پرواز اور لینڈ کرنے کی ویڈیوز تک لے جاتا۔

اس کے ساتھ ہی انھیں فلائٹ سمیولیٹر اور ہوائی جہاز بنانے والی فیکٹریوں کو اندر سے دکھانے والے ویڈیوز بھی نظر آتے۔

لونگ ایک کسان خاندان میں اس وقت پیدا ہوئے جب کمبوڈیا خمیر روج کے دور حکومت میں ہونے والی بربادی سے نکل رہا تھا۔ وہ کبھی کسی بھی قسم کے طیارے میں نہیں بیٹھے تھے۔

چاہت

تصویر کے کاپی رائٹ HOLLY ROBERTSON
Image caption پیین لونگ نے اپنے طیارے کی کئی حصوں میں پرانی چیزیں استعمال کی ہیں

وہ بتاتے ہیں کہ چھ سال کی عمر میں انھوں نے ہیلی کاپٹر دیکھا اور اسی وقت سے ہی پرواز کی چاہت ان کے دل و دماغ پر چھا گئی۔

دہائیوں تک وہ اڑنے کے بارے میں سوچتے رہے۔

لونگ کہتے ہیں: 'مجھے ہر رات طیارے میں پرواز کرنے کے خواب آتے۔ میں ہمیشہ چاہتا تھا کہ میرے پاس میرا اپنا ہوائی جہاز ہو۔'

پہلے یہ صرف ایک خواب تھا۔ لونگ کی تعلیم درمیان میں ہی چھوٹ گئی اور وہ ایک مکینک بن گئے۔

اس زمانے میں اس علاقے کے نوجوانوں کے پاس کھیتی باڑی کے علاوہ روزگار کے دوسرے متبادل کے طور پر کار مکینک بننا ہی رہ گيا تھا۔

اب وہ 30 سال کے ہو چکے ہیں اور انھوں نے پاس کے صوبے میں اپنا گیراج کھول لیا ہے اس کے بعد بھی پرواز کا خواب انھیں راتوں میں جگاتا رہا۔

بالآخر انھوں نے اپنا ذاتی طیارہ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔

لونگ کہتے ہیں: میں نے ہوائی جہاز بنانا شروع کر دیا، ابتدا میں چھپ کر یہ کام کرتا تھا کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ کوئی دیکھے گا تو میرا مذاق اڑائے گا۔ اس لیے میں کبھی کبھی چھپ کر رات میں بھی کام کرتا۔

لونگ کا خیال تھا کہ ہیلی کاپٹر کی نقل کرنا زیادہ مشکل ہے۔ اس لیے انھوں نے ہوائی جہاز بنانے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے دوسری عالمی جنگ کے جاپانی لڑاکا طیارے کو اپنا ماڈل بنایا۔

لونگ نے پرانی چیزیں استعمال کرتے ہوئے ایک انجن اور 5.5 میٹر کے پروں یا بازوؤں والا جہاز ایک سال کی محنت کے بعد بنا لیا۔

ان کی پائلٹ سیٹ ایک پلاسٹک کرسی ہے جس کے پاؤں کاٹ دیے گئے ہیں۔ کنٹرول پینل گاڑی کا ایک ڈیش بورڈ ہے اور ہوائی جہاز کی باڈی ایک پرانے گیس کنٹینر سے تیار کی گئی ہے۔ آٹھ مارچ کو لونگ نے اپنے ہوائی جہاز کا تجربہ کیا۔ دوپہر میں تقریباً تین بجے انھوں نے طیارے کا انجن سٹارٹ کیا۔

تین لوگوں کی مدد سے ہوائی جہاز کو 'رن وے' پر لایا گیا۔ رن وے کی یہ کچی سڑک راستے سے چاول کے کھیتوں میں جاتی ہے۔ گاؤں والوں کے مطابق 200-300 لوگ ان کی پرواز کو دیکھنے جمع ہوئے تھے۔ لیکن لونگ کے مطابق یہ تعداد تقریباً دو ہزار تھی۔.

سیکورٹی کے لیے لونگ نے موٹر سائیکل پر لگایا جانے والا ہیلمیٹ پہنا اور کاک پٹ میں بیٹھ گئے۔ طیارے نے رفتار پکڑی اور کچھ دیر کے لیے ہوا میں بھی اڑا۔ لونگ کہتے ہیں کہ طیارہ 50 میٹر کی بلندی تک گیا اور زمین پر آ گرا۔

جذباتی

تصویر کے کاپی رائٹ HOLLY ROBERTSON
Image caption پین لونگ اب سی پلین یعنی سمندر پر اڑنے والا تیارہ بنا رہے ہیں تاکہ بہت سے خطرات سے محفوظ رہیں

جب ان کی پہلی پرواز کے بعد لونگ زمین پر گرے تو لوگ ان پر ہنس رہے تھے۔

وہ کہتے ہیں: میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ میں بہت جذباتی ہو گیا کیونکہ وہ سب جو باتیں میرے بارے میں کہہ رہے تھے انھیں سننا میرے لیے مشکل تھا۔

لوگوں نے پرواز کی ناکامی کی وجہ ان کے طیارے کا وزن بتایا جو پانچ سو کلو تھا۔ لیکن اس ناکامی نے ان کے ارادے کو مزید مضبوطی بخشی اور لونگ نے اپنی ساری توجہ نئے پروجیکٹ پر لگا دی۔

امید

اب وہ پانی سے پرواز کرنے والا طیارہ بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ لونگ پر امید ہیں کہ اس بار وہ طیارے کو پرواز کے قابل بنا ہی دیں گے۔

خیال رہے کہ پریچّور علاقے میں واقع ان کے گاؤں سے سمندر 200 کلومیٹر دور ہے۔ وہ نئے پروٹوٹائپ کو ٹرک کے ذریعے سوے رينگ دریا تک لے جائیں گے اور وہاں سے پرواز کرنے کی کوشش کریں گے۔

لوے کہتے ہیں کہ پہلے ماڈل پر تقریبا دس ہزار ڈالر خرچ ہوئے تھے اور اپنے سمندری طیارے پر وہ اب تک تین ہزار ڈالر خرچ کر چکے ہیں۔

کمبوڈیا جیسے ملک کے لیے یہ بڑی رقم ہے جہاں اوسطاً تنخواہ 153 ڈالر فی ماہ ہے۔ یہاں 13.5 فیصد آبادی خط افلاس سے نیچے ہے۔

لونگ اتنے پیسوں میں اپنے خاندان کو شاندار غیر ملکی سفر کروا سکتے تھے۔

وہ کہتے ہیں: میں نے کبھی کسی دوسری چیز پر پیسہ خرچ کرنے کے بارے میں سوچا ہی نہیں۔ نہ ہی مجھے کبھی اپنا پیسہ جہاز پر خرچ کرنے میں کوئی دکھ ہوا۔

جوش

تصویر کے کاپی رائٹ HOLLY ROBERTSON
Image caption لونگ کی اہلیہ کو ان کی جان کی فکر ہے تاہم وہ ان کا ساتھ دے رہی ہیں

کچھ لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن ایسے بھی لوگ ہیں جو اپنے ضدی پڑوسی کے متعلق بہت پرجوش بھی ہیں۔

44 سالہ دکاندار سن سوپ ہیپ کہتے ہیں: میں لونگ جیسے شخص سے کبھی نہیں ملا۔

لونگ کے گھر کے قریب سڑک کے کنارے ریستوراں چلانے والی 29 سالہ مین فیری کہتی ہیں: 'یہ میرے لیے غیر معمولی ہے کیونکہ ہم کمبوڈیا کے لوگوں میں کوئی دوسرا ایسا کچھ نہیں کرے گا۔

لونگ کی 29 سالہ بیوی ہینگ موئے ہینگ کہتی ہیں کہ انھیں اپنے شوہر کی حفاظت کے متعلق فکر رہتی ہے۔

ان کے دو چھوٹے چھوٹے بیٹے ہیں تاہم وہ اپنے شوہر کی مکمل حمایت کرتی ہیں۔

وہ فکرمند لہجے میں کہتی ہیں: 'میں نہیں جانتی کہ طیارے کس طرح کام کرتے ہیں اور وہ کسی ماہر کو بھی نہیں جانتے ہیں جو ان کی مدد کریں۔ میں نے خوف کی وجہ سے ان سے کئی بار یہ کام بند کر دینے کے لیے کہا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا اور مجھے ان کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔‘

لونگ جولائی میں اپنی ٹیسٹ فلائٹ پانی پر کریں گے تاکہ خطرے کو کچھ کم کیا جا سکے لیکن وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے خواب کی پرواز میں بہت خطرے بھی ہیں، جن میں سے کچھ ان کے کنٹرول سے باہر ہیں۔

خطرے کے بارے میں لونگ کہتے ہیں: 'خطرہ، ہم اس کے بارے میں پہلے سے نہیں بتا سکتے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں