مزید کھدائی کر کے موئنجودڑو کی مزید باقیات کو بھی خطرے میں کیوں ڈالا جائے؟

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماہر آثار قدیمہ اور نیشنل اینٹیکوئٹیز کے چیئرمین ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ موئنجودڑو کی کھدائی کو بھی 80 سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے۔

ماہرینِ آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں واقع موئنجودڑو کی باقیات کو جتنا موسمی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی ایروژن سے خطرہ ہے، اتنا ہی انسانوں سے ٹوٹ پھوٹ کا خطرہ ہے۔

ماہر آثار قدیمہ اور نیشنل اینٹیکوئٹیز کے چیئرمین ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ موئنجودڑو کی کھدائی کو بھی 80 سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے۔ ’جو کھدائی کی گئی تھی ان کو دوبارہ دفن نہیں کیا گیا تھا۔ کھدائی میں جو دیواریں اور دیگر سٹرکچر نکلے جیسے کہ دیواریں اور جو باقیات ہیں ان پر جتنے بھی موسمی اثرات ہو سکتے ہیں وہ اثر انداز رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ موئنجودڑو کے باقیات کو خطرات کا احاطہ 1974 میں کر لیا گیا تھا اور 80 کی دہائی میں معلوم ہو گیا تھا کہ موئنجودڑو کی باقیات موسمی اثرات اور پانی کی بڑھتی سطح کے باعث خطرے میں ہیں۔

’اس وقت یہ فیصلہ کیا گیا کہ موئنجودڑو میں مزید کھدائی نہ کی جائے۔ مزید کھدائی کر کے مزید باقیات کو بھی خطرے میں کیوں ڈالا جائے؟ اس وقت یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک حکمت عملی مرتب کی جائے جس کے تحت باقیات کو پانی کے ری چارج اور موسمی اثرات سے جو نقصان ہو رہا ہے اس کو کم کرنے پر توجہ دی جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے کنارے پر موئنجودڑو کے باقیات ہیں اور گذشتہ ایک سو برس میں دریا کی سطح بلند ہوئی ہے۔ ’گذشتہ ایک سو سالوں میں جو دریائے سندھ پر بند بنائے گئے ہیں ان کے باعث زیر زمین پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ کے پہلو میں موجود موئنجودڑو کو پانی سے بھی نقصان پہنچا ہے۔ ’زیر زمین پانی ری چارج ہوتا ہے اور جب پانی کی سطح بلند ہوئی تو پانی اپنے ساتھ نمکیات بھی لاتا ہے جس سے موئنجودڑو کی باقیات کو نقصان پہنچا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دریائے سندھ پر بنائے جانے بند کی وجہ سے موئنجودڑو کو زیادہ نقصان ہو رہا ہے تو انھوں نے کہا کہ اسی وجہ سے 70 کی دہائی میں جب ’سیو موئنجودڑو‘ مہم کا آغاز کیا گیا تو یونیسکو کے ساتھ مل کر ریور ڈسپلن سٹرکچرز ڈیزائن کیے گئے تھے۔ ’موئنجودڑو جو اس وقت محفوظ ہے وہ ریور ڈسپلن سٹرکچرز ڈیزائن کی وجہ سے محفوظ ہے۔‘

لاکھنجودڑو میں کھدائی

ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے کہا کہ مزید کھدائی نہ کرنے کے باعث قدیم تہذیبوں کی بارے میں علم حاصل نہیں ہو پائے گا۔

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ 'پرانی تہذیب کے بارے میں مزید جاننے کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ موئنجودڑو کے مماثل اس کی سسٹر سائٹ لاکھنجودڑو کی کھدائی کی جائے گی۔'

’اسی لیے ماہرین آثار قدیمہ نے فیصلہ کیا ہے کہ موئنجودڑو میں مزید کھدائی نہیں کی جائے گی بلکہ سکھر کے قریب واقع لاکھنجودڑو میں رواں سال کھدائی کا کام شروع کر دیا جائے گا۔‘

ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا کہنا ہے کہ ’پرانی تہذیب کے بارے میں مزید جاننے کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ موئنجودڑو کے مماثل اس کی سسٹر سائٹ لاکھنجودڑو کی کھدائی کی جائے گی۔‘

لاکھنجودڑو سکھر کے قریب واقع ہے جو تانبے کے دور کا ایک بڑا شہری مرکزی رہا ہے۔ 'لاکھنجودڑو میں کھدائی کا باضابطہ آغاز رواں موسم سرما میں کیا جائے گا۔'

جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

موئنجودڑو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے آثار قدیمہ کی کھدائی کے حوالے سے نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں فزیکل کھدائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ریموٹ سینسنگ اور ڈرائی کور ڈرلنگ جیسی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

'موئنجودڑو میں ہم نے حال ہی میں ڈرائی کور ڈرلنگ کی اور اس سے ہم اس گہرائی تک چلے گئے جو کھدائی میں ممکن نہیں تھی۔ موئنجودڑو میں زیر زمین پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث ایک حد تک کھدائی کی جاسکتی ہے اور پانی کی موجودگی کے باعث کھدائی دشوار اور بہت مہنگی پڑتی ہے۔'

انھوں نے بتایا کہ ڈرائی کور ڈرلنگ کے باعث 700 میٹر کی گہرائی تک کے نمونے حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 'ہم نے 2014 اور 2015 میں ڈرائی کور ڈرلنگ کی اور اس ے جو نمونے لیے اور ان نمونوں کی تحقیق کی جا رہی ہے اور ہم کو کئی ایسی معلومات ملی ہیں اور مزید ملیں گی جو عام کھدائی میں نہیں ملتیں۔'

انھوں نے کہا 'اس وقت میں صرف یہ کہوں گا کہ ہم بہت سنسنی خیز انکشافات کی جانب بڑھ رہے ہیں۔'

موئنجودڑو کو دفن کر دیں

ڈاکٹر رچرڈ میڈو نے بی بی سی اردو کی جانب سے بھجوائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا موہنجودڑو کو جس سے بڑا خطرہ ہے وہ ہے ایروژن اور ٹوٹ پھوٹ ہیں۔ 'ایروژن موسمی اثرات اور موہنجودڑو کی لوکیشن کے باعث اور ٹوٹ پھوٹ بغیر کسی روک ٹوک کے لوگوں کا اس سائٹ پر گھومنا پھرنا۔

موئنجودڑو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ڈاکٹر رچرڈ ایچ میڈو ہارورڈ یونیورسٹی میں اینتھروپولوجی کے سینیئر لیکچرر ہیں اور ہڑپہ آثار قدیمہ ریسرچ پراجیکٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔

موئنجودڑو کی حفاظت اور اس کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں کے جواب میں انھوں نے کہا کہ موہنجودڑو کے ان حصوں کو دوبارہ دفنا دیا جائے جہاں زیادہ سیاح نہیں آتے۔

'ایسے علاقوں کو دفن کر کے ان کی جگہ ہائی کلاس عجائب گھر بنایا جائے جو لوگوں کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس سائٹ کے بارے میں آگاہ کرے۔'

انھوں نے مزید کہا 'موئنجودڑو میں داخلہ گائیڈ کے بغیر نہیں ہونا چاہیے اور کسی کو بھی مقررہ راستوں کے علاوہ کہیں اور جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں