میک کمپیوٹرز کے لیے مخصوص وائرس ڈارک ویب پر مفت دستیاب

ایپل کمپیوٹر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میکیفی کی جانب سے جمع کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق دنیا میں میک کو ہدف بنانے والے ساڑھے چار لاکھ وائرس موجود ہیں

اپیل کے میک کمپیوٹرز استعمال کرنے والے افراد کو ایسے وائرسز کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے جو خصوصی طور پر ایپل کے کمپیوٹرز کے لیے ہی بنائے گئے ہیں۔

ان میں سے ایک 'رینسم ویئر' ہے جو صارف کے کمپیوٹر کا ڈیٹا انکرپٹ کر دیتا ہے اور فائلوں تک رسائی دینے کے لیے تاوان طلب کرتا ہے۔

٭ کیا آپ کا کمپیوٹر خطرے میں ہے؟

٭ سائبر حملہ دنیا کے لیے ایک انتباہ ہے: مائیکروسافٹ

٭ 99 ممالک غیرمعمولی سائبر حملے کی زد میں

اس کے علاوہ ایک وائرس صارفین کی سرگرمیوں پر نظر رکھ کر اہم معلومات حاصل کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس اس لیے بھی خطرناک ہیں کیونکہ ان کے خالق انھیں مفت تقسیم کر رہے ہیں۔

یہ دونوں ضرر رساں پروگرام فورٹینیٹ اور ایلیئن والٹ نامی سکیورٹی کمپنیوں نے ڈارک ویب یعنی غیرقانونی اشیا کی خریدوفروخت کے لیے بنائے گئے انٹرنیٹ پر دریافت کیے ہیں

ایک بلاگ میں فورٹینیٹ نے کہا ہے کہ ان وائرسز کی ویب سائٹ پر انھیں استعمال کرنے کے خواہشمند افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ ان کے خالق سے رابطہ کریں اور اپنی مرضی کے مطابق وائرس حاصل کریں۔

رینسم ویئر کے خالق کا کہنا ہے کہ تاوان میں ملنے والی رقم وائرس کے خالق اور اسے استعمال کرنے والے میں برابر تقسیم کی جائے گی۔

جب فورٹینٹ کے محققین نے اس ویب سائٹ پر خریدار بن کر رابطہ کیا تو جلد ہی انھیں اس وائرس کا نمونہ فراہم کر دیا گیا۔

اس کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس میں اتنی بہتر انکرپشن استعمال نہیں کی گئی جیسی کہ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والے کمپیوٹرز کو نشانہ بنانے والے رینسم ویئر میں کی جاتی ہے۔

حال ہی میں دنیا بھر میں ہونے والے رینسم ویئر کے حملے نے 150 ممالک میں دو لاکھ سے زیادہ افراد کو متاثر کیا اور اس وقت ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ رینسم ویئر کے اور کیس سامنے آ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption گذشتہ ماہ دنیا بھر میں ہونے والے رینسم ویئر کے حملے نے 150 ممالک میں دو لاکھ سے زیادہ افراد کو متاثر کیا

اس کے علاوہ ڈارک ویب میں موجود اس ویب سائٹ پر میکسپائی نامی سپائی ویئر بھی مفت دستیاب ہے جو ایک' کی لاگر' کا کام کرنے کے علاوہ سکرین شاٹس لے سکتا ہے اور مشینوں کے مائیک آن کر سکتا ہے۔

ایلیئن والٹ کے محقق پیٹر ایوین کا کہنا ہے کہ میک کمپیوٹرز استعمال کرنے والے صارفین کو اس سلسلے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'جیسے جیسے ایپل کے آپریٹنگ سسٹم کی مارکیٹ بڑھ رہی ہے یہ خدشہ موجود ہے کہ وائرس بنانے والے افراد کی زیادہ توجہ اس پر مرکوز ہوگی۔'

میکیفی کی جانب سے جمع کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق دنیا میں میک کو ہدف بنانے والے ساڑھے چار لاکھ وائرس موجود ہیں جبکہ ونڈوز کے لیے بنائے گئے وائرسز کی تعداد دو کروڑ تیس لاکھ ہے۔

فورٹینیٹ کے عامر لاکھانی کا کہنا ہے کہ میک صارفین کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی مشینوں میں موجود سافٹ ویئرز کے تازہ ترین اپ ڈیٹس ان کے پاس ہوں اور ای میل کے ذریعے وصول ہونے والے پیغامات کے بارے میں بھی وہ ہوشیار رہیں۔

ای ویک سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'میک رینسم ویئر یقیناً زور پکڑ رہے ہیں۔ اگرچہ وائرس کی مارکیٹ میں ان کا حصہ ابھی بہت کم ہے لیکن ہیکرز جانتے ہیں کہ میک پر اہم ڈیٹا موجود ہوتا ہے۔'

جب ایپل سے ان وائرسز کی موجودگی اور میک پر ان کے ممکنہ اثرات کے بارے میں بات کی گئی تو کمپنی کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا گیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں