'روزانہ ایک انڈا بچوں کی نشوونما میں مفید'

انڈا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بچوں میں انڈے کے فوائد پر تحقیق ابھی کم ہوئی ہوئی ہے

جنوبی امریکی ملک ایكواڈور میں چھ ماہ کے ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ ایک انڈا کھانے سے مناسب غذا کی کمی کے شکار بچے بھی ممکنہ طور پر معمول کا قد حاصل کر سکتے ہیں۔

خواہ یہ انڈے ہاف فرائی ہوں، ابلے ہوئے ہوں، تلے ہوئے ہوں یا آملیٹ کی شکل میں ہوں ان سے بچوں کو جسمانی نشوونما میں مدد مل سکتی ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بچوں میں جسمانی نشوونما کا یہ ایک سستا ذریعہ ہو سکتا ہے۔

ایک قسم کی خوراک پر زندگی ممکن ہے؟

قحط زدہ زندگی کے روپ

انڈا یا آملیٹ لانے پر سکول سے نکالنے کا فرمان

یہ تحقیق ’پیڈیاٹرکس‘ نامی بین الاقوامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

بچوں کے پہلے دو سال ان کی جسمانی نشو نما کے لیے کافی اہم ہوتے ہیں۔

غذائیت کی کمی بچوں کی جسمانی افزائش میں رکاوٹ بنتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بچپن کے انفیکشن اور بیماریاں بھی اس کا سبب ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چھ سے سات ماہ کے بچے کو ماں کے دودھ کے علاوہ اضافی غذا میں انڈا دیا جا سکتا ہے

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں پانچ سال تک کی عمر والے ساڑھے پندرہ کروڑ بچوں کی جتنی لمبائی ہونا چاہیے وہ اس سے بہت کم ہے۔

ان میں زیادہ تر غریب ممالک کے بچے ہیں۔ شعبۂ صحت سے منسلک ماہرین اس کا کوئی حل نکالنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔

لورا اينوٹی اوران کے ساتھیوں نے ایكواڈور کے دیہی پہاڑی علاقے میں ایک تجربہ کیا ہے۔ یہاں چھ سے سات ماہ کے بچوں کو انڈے کھانے کے لیے دیے گئے۔

اس تجربے میں 160 بچوں کو شامل کیا گیا جن میں سے نصف بچوں کو چھ ماہ تک روزانہ ایک انڈا کھلایا گیا۔ پھر ان بچوں کے جسمانی نشوونما کا موازنہ باقی کے بچوں سے کیا گیا۔

محققین بچوں کے گھر ہر ہفتے جاتے اور یہ دیکھتے کہ بچوں کو پریشانی تو نہیں ہے۔ کہیں وہ انڈے سے ہونے والی الرجی کا شکار تو نہیں۔

اس مطالعے میں بات سامنے آئی کہ انڈے کھانے والے بچوں کا جسمانی نشوونما بہتر رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں میں غذائیت کی کمی کا یہ آسان طریقہ ہے

اس تحقیقی مطالعے کی سربراہ لورا نے کہا: ’ہم لوگ حیران ہیں کہ یہ اتنا مؤثر ثابت ہوا۔ یہ اپنے آپ میں کتنا اچھا ہے کیونکہ روزانہ ایک انڈے کا خرچ برداشت کرنا بہت مشکل نہیں ہے۔ اس کی دستیابی بھی بہت آسان ہے۔ جہاں غذائیت کی کمی کا مسئلہ ہے وہاں یہ طریقہ کار بہترین ثابت ہو سکتا ہے۔‘

لور نے کہا کہ انڈے بچوں کے چھوٹے پیٹ کے لیے بہترین غذا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انڈا غذائی اجزاء کا مجموعہ ہے اور یہ اپنے آپ میں کافی اہم ہے۔

رائل کالج آف پيڈياٹركس اینڈ چائلڈ ہیلتھ میں پروفیسر میری فیوٹرل نے اسے ’حیران کن‘ تحقیق قرار دیا۔

انھوں نے کہا: ’یہ حیران کن اس لیے ہے کہ اس پر زیادہ ریسرچ نہیں ہوئی ہے۔ والدین اس عمر میں بچوں کو انڈے نہیں دیتے۔ والدین انڈوں سے ہونے والی الرجی سے ڈرتے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں