معمر افراد کے لیے روزانہ اسپرین لینا خطرناک

اسپرین تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

دل کے دورے اور فالج کے کا شکار ہونے والے 75 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے روزانہ اسپرین لینا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

ایک طبی تحقیق کے مطابق یہ دوا روزانہ لینا بعض اوقات جان لیوا ثابت ہوتا ہے اور معدے سے خون کا رساؤ ماضی کے اندازوں کے زیادہ ہو سکتا ہے۔

طبی جریدے لانسٹ میں شائع تحقیق کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اسپرین چونکہ دل کے دورے سے بچاؤ کا فوری طریقہ ہے اس لیے یہ بات کسی بھی خطرے پر بھاری پڑتی ہے۔

* معمولی عارضہِ قلب کی علامات ہیں تو فوری اسپرین

ان کے بقول ایسی صورتحال میں اچانک اسپرین کا استعمال بند کرنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اسپرین لینے والے لوگوں کو دوا میں کسی تبدیلی سے پہلے ڈاکٹروں سے مشورہ کرنا چاہیے۔ عام طور پر ڈاکٹر کسی بھی شخص کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد انھیں زندگی بھر روزانہ اسپرین لینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

لیکن محققین کے مطابق اسپرین سے پیٹ میں خون رسنے کا خدشہ بڑھتا ہے۔

یہ تحقیق برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی۔ اس تحقیقی مطالعے میں 3،166 مریضوں کو شامل کیا گیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں دل کا دورہ پڑ چکا تھا اور ڈاکٹروں نے انھیں اسپرین لینے یا خون کو پتلا کرنے والے دوسری ادویات لینے کو کہا ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

اس تحقیق میں پایا گیا کہ 65 سال سے کم عمر کے ہر 200 لوگوں میں ایک آدمی کے پیٹ میں خون رسنے کا خدشہ تھا، وہیں 75 سے 84 سال کے ہر 200 لوگوں میں تین افراد میں خون کا خدشہ دیکھا گیا۔

مطالعے کے اہم محقق پروفیسر پیٹر رچویل کہتے ہیں، ’ہماری نئی تحقیق کے مطابق 75 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں اسپرین استعمال سے خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔‘

وہیں شیفیلڈ یونیورسٹی کے دل کی بیماری کے ماہر ڈاکٹر ٹم چیکو بتاتے ہیں کہ یہ اہم تحقیق ہے۔ اگرچہ ٹم کے مطابق اسپرین بہت سوں کے لیے خطرناک نہیں بھی ہوتی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں